ایک بادشاہ طلاق چاہتا تھا، اور اسے حاصل کرنے کے لیے اس نے اپنے پورے ملک کو ایک نیا چرچ دے دیا۔ اس کے تین بچے ایک کے بعد ایک تخت پر بیٹھے، اور ہر ایک کے ساتھ ملک کا مذہب کبھی اِدھر کبھی اُدھر جھکتا رہا: پروٹسٹنٹ، پھر کیتھولک، پھر دوبارہ پروٹسٹنٹ۔ آخر میں ایک ایسی ملکہ نے، جس نے کبھی شادی نہیں کی، یورپ کے سب سے طاقتور بحری بیڑے کو شکست دی۔
یہ ٹیوڈر خاندان (the Tudors) اور تخت پر ان کے 118 سالوں کی کہانی ہے۔ پچھلا باب اس بات پر ختم ہوا تھا کہ ہنری ٹیوڈر (Henry Tudor) بوسورتھ (Bosworth) میں جیت کر ہنری ہفتم (Henry VII) بن گیا۔ یہ باب اسی سے شروع ہوتا ہے۔
1485ہنری ہفتم (Henry VII) بادشاہ بنتا ہے اور ٹیوڈر دور شروع ہوتا ہے
1509ہنری ہشتم (Henry VIII) بادشاہ بنتا ہے؛ بعد میں وہ روم سے ناتا توڑ کر چرچ آف انگلینڈ (Church of England) قائم کرتا ہے
1547ایڈورڈ ششم (Edward VI) 9 سال کی عمر میں بادشاہ بنتا ہے؛ اس کے دور میں کتابِ دعائے عام (Book of Common Prayer) لکھی جاتی ہے
1553میری اول (Mary I) ملکہ بنتی ہے اور کیتھولک مذہب واپس لاتی ہے
1558الزبتھ اول (Elizabeth I) ملکہ بنتی ہے اور چرچ آف انگلینڈ کو بحال کرتی ہے
1560اسکاٹ لینڈ کی اصلاحِ مذہب (Scottish Reformation): اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ اسکاٹ لینڈ میں پوپ کا اختیار ختم کر دیتی ہے
1588انگلینڈ ہسپانوی آرماڈا (Spanish Armada) کو شکست دیتا ہے
1603الزبتھ اول بے اولاد فوت ہوتی ہے، اور ٹیوڈر دور ختم ہو جاتا ہے
ہنری ہفتم: محتاط پہلا ٹیوڈر بادشاہ
گلابوں کی جنگوں (Wars of the Roses) کے تیس سال کے بعد ہنری ہفتم (Henry VII) کو سب سے بڑھ کر دو باتوں کی فکر تھی: دوبارہ خانہ جنگی نہ ہو، اور اس کا اپنا تخت محفوظ رہے۔
اس کا حل یہ تھا کہ امرا کو کمزور کیا جائے اور مرکزی حکومت کو مضبوط بنایا جائے۔ گلابوں کی جنگیں ان بڑے امرا نے لڑی تھیں جن کی اپنی ذاتی فوجیں تھیں، اس لیے امرا جتنے کمزور ہوتے، بادشاہ اتنا ہی محفوظ محسوس کرتا۔ وہ پیسے کے معاملے میں بھی بہت محتاط تھا اور اس نے تاج (Crown) کے لیے بڑی دولت جمع کی۔
ہنری ہفتم شاہی حساب کتاب کے رجسٹر خود دیکھتا تھا اور صفحے کے بعد صفحے پر اپنے نام کے ابتدائی حروف لکھتا جاتا تھا؛ یہ رجسٹر آج بھی محفوظ ہیں۔ اس کی بچائی ہوئی زیادہ تر دولت بعد میں اس کے فضول خرچ بیٹے ہنری ہشتم (Henry VIII) نے اڑا دی۔
کوئز
After the Wars of the Roses, what did Henry VII do to keep England peaceful and his throne secure?
سوال اردو میںگلابوں کی جنگوں کے بعد ہنری ہفتم نے انگلینڈ میں امن قائم رکھنے اور اپنے تخت کو محفوظ بنانے کے لیے کیا کیا؟ A: اس نے امرا کو مزید زمین اور سپاہی دیے B: اس نے روم کے چرچ سے ناتا توڑ لیا C: اس نے مرکزی حکومت کو مضبوط اور امرا کو کمزور کیا D: اس نے پارلیمنٹ سے کہا کہ اگلا بادشاہ وہ چنے
ہنری ہفتم کے لیے اہم الفاظ ہیں "مضبوط مرکزی حکومت" (stronger central government) اور "کمزور امرا" (weaker nobles)۔ روم کے چرچ سے ناتا توڑنے والا اس کا بیٹا ہنری ہشتم (Henry VIII) تھا۔ پارلیمنٹ کا بادشاہ چننا 1688 کے بعد ہی ہوا، جس کے بارے میں آپ اگلے باب میں پڑھیں گے۔
ہنری ہشتم: چھ بیویاں اور ایک نیا چرچ
ہنری ہشتم (Henry VIII) نے اپنے باپ کی مضبوط مرکزی حکومت والی پالیسی جاری رکھی۔ لیکن اسے سب سے زیادہ دو باتوں کے لیے یاد کیا جاتا ہے: روم کے چرچ سے علیحدگی اور چھ بیویاں۔
ہنری ہشتم کی چھ بیویاں۔ برطانوی لوگ ان کا انجام ایک چھوٹی سی نظم سے یاد رکھتے ہیں: divorced, beheaded, died; divorced, beheaded, survived (طلاق، سر قلم، وفات؛ طلاق، سر قلم، زندہ بچ گئی)۔
کیتھرین آف آراگون (Catherine of Aragon): اسپین کی ایک شہزادی۔ ہنری سے اس کے جتنے بچے ہوئے، ان میں سے صرف ایک زندہ بچا: ان کی بیٹی میری (Mary)۔ جب کیتھرین مزید بچے پیدا کرنے کے قابل نہ رہی تو ہنری طلاق چاہنے لگا۔
این بولین (Anne Boleyn): انگلینڈ میں پیدا ہوئی۔ ہنری سے اس کی اولاد ایک بیٹی تھی، الزبتھ (Elizabeth)۔ ملک میں بہت سے لوگ اسے ناپسند کرتے تھے۔ اس پر دوسرے مردوں سے ناجائز تعلقات کا الزام لگا اور ٹاور آف لندن (Tower of London) میں اسے موت کی سزا دے دی گئی۔
جین سیمور (Jane Seymour): آخرکار اس نے ہنری کو وہ بیٹا دیا جس کی اسے شدید آرزو تھی، ایڈورڈ (Edward)۔ افسوس کہ بچے کی پیدائش کے کچھ ہی عرصے بعد وہ فوت ہو گئی۔
این آف کلیوز (Anne of Cleves): جرمنی کی ایک شہزادی۔ ہنری نے اس سے ایک سیاسی اتحاد بنانے کے لیے شادی کی، اور یہ شادی جلد ہی ختم کر دی گئی۔ ہنری نے اس سے شادی کا فیصلہ اپنے درباری مصور ہولبائن (Holbein) کی بنائی ہوئی اس کی تصویر دیکھ کر کیا تھا، لیکن جب دونوں واقعی ملے تو وہ مایوس ہوا، اور یہ شادی صرف تقریباً چھ مہینے چلی۔ این نے سمجھداری سے کام لیتے ہوئے اسے ختم کرنے پر رضامندی دے دی، اور بدلے میں اسے قیمتی جاگیریں، اچھی آمدنی اور "بادشاہ کی پیاری بہن" کا خطاب ملا۔ آخرکار وہ چھ ملکاؤں میں سے سب سے آخر میں فوت ہونے والی تھی۔
کیتھرین ہاورڈ (Catherine Howard): این بولین کی کزن۔ این کی طرح اس پر بھی ناجائز تعلقات کا الزام لگا، اور اسے بھی موت کی سزا دی گئی۔
کیتھرین پار (Catherine Parr): ایک بیوہ، جس سے ہنری نے اپنی زندگی کے آخری حصے میں شادی کی۔ وہ ہنری کے بعد بھی زندہ رہی اور اس نے دوبارہ شادی کی، لیکن کچھ ہی عرصے بعد فوت ہو گئی۔
ہنری ہشتم، جسے ہانس ہولبائن دی ینگر (Hans Holbein the Younger) کی ورکشاپ نے تقریباً 1540 کی دہائی میں پینٹ کیا۔ ٹانگیں پھیلا کر کھڑے ہونے کا انداز اور بہت بڑے کندھے اس لیے بنائے گئے تاکہ بادشاہ طاقتور دکھائی دے۔
Workshop of Hans Holbein the Younger، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons
ایک نیا چرچ، تاکہ وہ طلاق لے سکے
ہنری اور اس کی پہلی بیوی کیتھرین کا کوئی بیٹا زندہ نہیں بچا تھا، اور وہ اسے طلاق دے کر کسی اور سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ لیکن انگلینڈ ایک کیتھولک ملک تھا، اور طلاق کے لیے پوپ (the Pope) کی اجازت ضروری تھی۔ پوپ نے انکار کر دیا۔
چنانچہ ہنری نے انگلینڈ کو روم کے چرچ سے الگ کر لیا اور چرچ آف انگلینڈ (Church of England) قائم کیا، جس میں پوپ کی جگہ بادشاہ نے لے لی۔ اب بشپ (چرچ کے بڑے عہدیدار) وہی مقرر کرتا تھا، اور یہ قواعد بھی وہی طے کرتا تھا کہ لوگ عبادت کیسے کریں۔
کوئز
Which TWO wives of Henry VIII were executed?
سوال اردو میںہنری ہشتم کی کون سی دو بیویوں کو سزائے موت دی گئی؟
این بولین (Anne Boleyn) اور اس کی کزن کیتھرین ہاورڈ (Catherine Howard) کو سزائے موت دی گئی۔ جین سیمور (Jane Seymour) ایڈورڈ کو جنم دینے کے بعد فوت ہوئی، اور کیتھرین پار (Catherine Parr) ہنری کے بعد بھی زندہ رہی۔ نظم میں دونوں "beheaded" (سر قلم) بیوی نمبر 2 اور نمبر 5 ہیں۔
کوئز
Why did Henry VIII establish the Church of England?
سوال اردو میںہنری ہشتم نے چرچ آف انگلینڈ کیوں قائم کیا؟ A: کیونکہ پوپ نے اسے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینے کی اجازت نہیں دی B: کیونکہ ہسپانوی آرماڈا کو شکست ہو چکی تھی C: کیونکہ پارلیمنٹ نے اسے پیسہ دینے سے انکار کر دیا تھا D: کیونکہ وہ انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کو متحد کرنا چاہتا تھا
وجہ ذاتی تھی: پوپ اسے کیتھرین آف آراگون (Catherine of Aragon) کو طلاق دینے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ آرماڈا اس کی بیٹی الزبتھ اول (Elizabeth I) کے زمانے میں آیا۔ پارلیمنٹ کا پیسہ دینے سے انکار اور انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کا اتحاد، دونوں اگلے باب کے اسٹورٹ دور (Stuart period) کی باتیں ہیں۔
اصلاحِ مذہب: پروٹسٹنٹ کہاں سے آئے
جب ہنری پوپ سے جھگڑ رہا تھا، اسی دوران پورے یورپ میں اس سے کہیں بڑی تبدیلی پھیل رہی تھی: اصلاحِ مذہب (Reformation)۔ یہ ایک تحریک تھی جس نے پوپ کے اختیار کو، اور رومن کیتھولک چرچ (Roman Catholic Church) کے بہت سے عقائد اور رسموں کو چیلنج کیا۔
اس کے حامیوں کو پروٹسٹنٹ (Protestants) کہا جاتا تھا، اور انہوں نے اپنے الگ چرچ بنائے۔ پروٹسٹنٹ اور کیتھولک تین بڑی باتوں میں ایک دوسرے سے مختلف تھے:
بائبل لاطینی میں نہیں، اپنی زبان میں پڑھنا
نہ سینٹس (مقدس ہستیوں) سے دعا، نہ مزاروں (مقدس مقامات) پر جا کر دعا
چرچ کی اطاعت سے زیادہ اہم خدا سے آپ کا اپنا تعلق ہے
کوئز
Which of the following statements is correct?
سوال اردو میںان میں سے کون سا بیان درست ہے؟ A: پروٹسٹنٹ سمجھتے تھے کہ بائبل صرف لاطینی میں پڑھی جانی چاہیے۔ B: پروٹسٹنٹ چاہتے تھے کہ لوگ بائبل لاطینی کے بجائے اپنی زبان میں پڑھیں۔
معاملہ اس کے اُلٹ ہے۔ لاطینی کیتھولک چرچ کی روایت تھی؛ پروٹسٹنٹ چاہتے تھے کہ لوگ بائبل اپنی زبان میں پڑھیں۔
ویلز اور آئرلینڈ
ویلز: باضابطہ طور پر انگلینڈ سے جوڑ دیا گیا
ہنری ہشتم کی مضبوط مرکزی حکومت صرف انگلینڈ تک محدود نہیں رہی، بلکہ ویلز اور آئرلینڈ تک بھی پہنچی۔ اسی کے دور میں پارلیمنٹ نے کچھ قوانین منظور کیے جنہیں ویلز کی حکومت کا ایکٹ (Act for the Government of Wales) کہا جاتا ہے۔ ان قوانین نے ویلز کو باضابطہ طور پر انگلینڈ کے ساتھ متحد کر دیا۔ اس کے بعد سے دارالعوام (House of Commons) میں ویلز کے ارکان ہونے لگے، اور اس کی عدالتوں اور قوانین کو نئے سرے سے منظم کیا گیا۔
ٹیوڈر خود ویلش تھے۔ یہ خاندان شمالی ویلز کے ساحل کے پاس واقع جزیرے اینگلسی (Anglesey) سے تعلق رکھتا تھا، اور 1485 میں ہنری ہفتم جنوب مغربی ویلز میں اترا اور بوسورتھ کی طرف بڑھتے ہوئے راستے میں سپاہی جمع کرتا گیا۔ یوں جس خاندان نے ویلز اور انگلینڈ کو آپس میں جوڑا، وہ خود ویلش تھا۔
آئرلینڈ: ہنری ہشتم "آئرلینڈ کا بادشاہ" بنتا ہے
اس زمانے میں آئرلینڈ میں تقریباً ہر شخص کیتھولک تھا۔ ہنری ہفتم اور ہنری ہشتم نے انگریزی کنٹرول کو پیل (the Pale) سے آگے تک پھیلایا۔ ہنری ہشتم نے "آئرلینڈ کا بادشاہ" (King of Ireland) کا خطاب بھی اختیار کیا۔ انگریزی قوانین رائج کیے گئے، اور مقامی رہنماؤں کو لارڈ لیفٹیننٹ (Lord Lieutenant) کا حکم ماننا پڑتا تھا، جو ڈبلن (Dublin) میں بادشاہ کا گورنر تھا۔
لیکن آئرلینڈ میں اصلاحِ مذہب کا سخت ردِعمل ہوا۔ انگریزوں نے آئرش لوگوں پر پروٹسٹنٹ مذہب زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کی، اور ساتھ ہی زمین کی وراثت کے بارے میں انگریزی قواعد بھی لاگو کیے۔ آئرش سرداروں (chieftains، یعنی قبیلوں کے سربراہوں) نے بغاوت کر دی، اور کئی سال تک بے رحمانہ لڑائی ہوتی رہی۔
کوئز
Is the statement below TRUE or FALSE?
The Act for the Government of Wales, passed while Henry VIII was king, formally joined Wales with England.
سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: ہنری ہشتم کے دورِ حکومت میں منظور ہونے والے ویلز کی حکومت کے ایکٹ (Act for the Government of Wales) نے ویلز کو باضابطہ طور پر انگلینڈ کے ساتھ جوڑ دیا۔
درست (TRUE)۔ اسے پچھلے باب کے رِدلان کے قانون (Statute of Rhuddlan) سے گڈمڈ نہ کریں (1284، ایڈورڈ اول)، جس نے ویلز کو انگریز تاج کے تحت کیا تھا۔ ہنری ہشتم کے قوانین اس سے آگے گئے: انہوں نے ویلز کو باضابطہ طور پر انگلینڈ کے ساتھ متحد کیا اور اسے پارلیمنٹ میں نمائندگی دی۔
تین بچے، تین عقیدے
ہنری ہشتم 1547 میں فوت ہوا۔ اس کے تین بچے ایک کے بعد ایک تخت پر آئے، اور ہر نئے حکمران کے ساتھ ملک کا مذہب ایک نئی سمت میں مڑ گیا۔
ٹیوڈر خاندان کا شجرہ۔ سرخ نمبر وہ ترتیب دکھاتے ہیں جس میں انہوں نے حکومت کی: ایڈورڈ سب سے چھوٹا تھا، لیکن لڑکا ہونے کی وجہ سے وہ اپنی دونوں بڑی بہنوں سے پہلے بادشاہ بنا۔ دائیں طرف کی ٹوٹی ہوئی (ڈیش والی) لکیر خاندان کی وہ شاخ ہے جو شادی کے ذریعے اسکاٹ لینڈ سے جڑی۔ اگلے باب کے اہم کردار اسی شاخ سے آتے ہیں۔
ایڈورڈ ششم: لڑکا بادشاہ، پکا پروٹسٹنٹ
جین سیمور کا بیٹا ایڈورڈ ششم (Edward VI) 9 سال کی عمر میں بادشاہ بنا۔ وہ پکا پروٹسٹنٹ تھا۔ اس کے دور میں چرچ آف انگلینڈ کو کتابِ دعائے عام (Book of Common Prayer) ملی، جس میں چرچ کی عبادتوں میں پڑھے جانے والے الفاظ درج تھے۔ کچھ چرچ آج بھی اس کا ایک نسخہ استعمال کرتے ہیں۔
ایڈورڈ کی صحت کبھی اچھی نہیں رہی۔ اس نے چھ سال سے کچھ زیادہ حکومت کی اور صرف 15 سال کی عمر میں فوت ہو گیا۔
ایڈورڈ کو ڈر تھا کہ اس کی کیتھولک بہن میری (Mary) ملکہ بن جائے گی، اس لیے مرنے سے کچھ پہلے اس نے تاج اپنی پروٹسٹنٹ کزن لیڈی جین گرے (Lady Jane Grey) کے نام کر دیا۔ وہ صرف نو دن ملکہ رہی، پھر میری کے حامی ہجوم نے اسے ہٹا دیا، اور اگلے سال اسے موت کی سزا دے دی گئی۔ چونکہ اس کا دور بہت مختصر تھا، اور بہت سے لوگ کہتے تھے کہ وہ قانونی ملکہ تھی ہی نہیں، اس لیے انگلینڈ کے بادشاہوں کی بہت سی فہرستوں میں اس کا نام شامل نہیں کیا جاتا۔
میری اول: "خونی میری"
اس کے بعد میری اول (Mary I) آئی، جو کیتھرین آف آراگون کی بیٹی تھی۔ وہ ایک کٹر کیتھولک تھی۔ وہ انگلینڈ کو واپس کیتھولک چرچ کی طرف لے گئی اور پروٹسٹنٹس پر ظلم کیا (یعنی ان کے عقیدے کی وجہ سے انہیں سخت سزائیں دیں)۔ لگ بھگ 300 لوگوں کو زندہ جلا دیا گیا، اسی لیے وہ "خونی میری" (Bloody Mary) کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کا دور بھی مختصر رہا: پانچ سال بعد وہ فوت ہو گئی۔
میری اول نے ہسپانوی شہزادے فلپ (Philip) سے شادی کی، جو بعد میں اسپین کا بادشاہ فلپ دوم (Philip II) بنا، اور جب تک میری زندہ رہی، وہ "انگلینڈ کا بادشاہ" کا خطاب بھی استعمال کرتا رہا۔ تیس سال بعد، جس شخص نے انگلینڈ پر حملے کے لیے آرماڈا بھیجا، وہ الزبتھ اول کا سابق بہنوئی تھا۔
الزبتھ اول: توازن قائم رکھنے والی ملکہ
میری کی سوتیلی بہن الزبتھ اول (Elizabeth I)، جو این بولین کی بیٹی تھی، 1558 میں ملکہ بنی۔ وہ پروٹسٹنٹ تھی، اور اس نے چرچ آف انگلینڈ کو ایک بار پھر ملک کا سرکاری چرچ بنا دیا۔
اس کا طریقہ بہت سمجھداری کا تھا۔ ہر شخص کو اپنے مقامی چرچ جانا ہوتا تھا، اور قانون طے کرتا تھا کہ کون سی عبادات اور دعائیں استعمال ہو سکتی ہیں۔ لیکن وہ یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتی تھی کہ لوگ دل میں واقعی کیا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اس طرح اس نے کیتھولکوں اور سخت گیر پروٹسٹنٹس کے درمیان ایک درمیانی راستہ اپنایا، اور انگلینڈ کو سنگین مذہبی جھگڑوں سے بچائے رکھا۔ اس نے کبھی شادی نہیں کی۔
کوئز
Which monarch was on the throne when the Book of Common Prayer was produced for the Church of England?
سوال اردو میںجب چرچ آف انگلینڈ کے لیے کتابِ دعائے عام (Book of Common Prayer) تیار کی گئی تو تخت پر کون سا حکمران تھا؟
کتابِ دعائے عام پروٹسٹنٹ لڑکے بادشاہ ایڈورڈ ششم (Edward VI) کے دور میں لکھی گئی۔ C سے ہوشیار رہیں: جیمز اول (James I) کے دور میں ایک نئی انگریزی بائبل آئی، کنگ جیمز بائبل (King James Bible)، جس کا ذکر اگلے باب میں ہے۔
کوئز
Which of the following statements is correct?
سوال اردو میںان میں سے کون سا بیان درست ہے؟ A: میری اول ایک پکی کیتھولک تھی، اور اس کے دور میں پروٹسٹنٹس پر ظلم ہوا۔ B: میری اول ایک پکی پروٹسٹنٹ تھی جس نے کتابِ دعائے عام لکھی۔
"خونی میری" (Bloody Mary) کیتھولک تھی، اور جن لوگوں پر اس نے ظلم کیا وہ پروٹسٹنٹ تھے۔ کتابِ دعائے عام سے جڑا پروٹسٹنٹ بادشاہ اس کا بھائی ایڈورڈ ششم (Edward VI) تھا۔
کوئز
Is the statement below TRUE or FALSE?
Elizabeth I was a Catholic who brought England back under the authority of the Pope.
سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: الزبتھ اول کیتھولک تھی جس نے انگلینڈ کو دوبارہ پوپ کے اختیار کے تحت کر دیا۔
غلط (FALSE)۔ الزبتھ اول پروٹسٹنٹ تھی، اور اس نے چرچ آف انگلینڈ کو بحال کیا۔ انگلینڈ کو واپس کیتھولک چرچ کی طرف لے جانے والی اس کی بہن میری اول (Mary I) تھی۔ یاد رکھنے کی ترکیب: ہنری کے تینوں بچے ترتیب سے پروٹسٹنٹ، کیتھولک، پروٹسٹنٹ تھے (ایڈورڈ، میری، الزبتھ)، یعنی "P, C, P"۔
1588: ہسپانوی آرماڈا
الزبتھ کے زمانے میں انگریز زیادہ سے زیادہ محبِ وطن (patriotic) ہوتے گئے، یعنی انہیں اپنے ملک پر فخر ہونے لگا۔ انگریز مہم جو نئے تجارتی راستوں کی تلاش میں نکلے اور انہوں نے امریکی براعظموں (the Americas) میں اسپین کی نوآبادیوں میں گھسنے کی کوشش کی۔
کیتھولک اسپین تنگ آ چکا تھا۔ 1588 میں بادشاہ فلپ دوم (Philip II) نے جنگی جہازوں کا ایک بہت بڑا بیڑا، ہسپانوی آرماڈا (Spanish Armada)، انگلینڈ کو فتح کرنے اور وہاں کیتھولک مذہب واپس لانے کے لیے بھیجا۔ لیکن انگریزوں نے اسے شکست دے دی۔ اس فتح نے الزبتھ اول کو انگلینڈ کے اب تک کے سب سے ہردلعزیز حکمرانوں میں سے ایک بنا دیا۔
آرماڈا کا راستہ۔ وہ مڑ کر چینل کے راستے گھر واپس نہیں جا سکتا تھا، اس لیے اسے پورے برطانیہ کا چکر لگانا پڑا، اور راستے میں طوفانوں نے بہت تباہی مچائی۔
1588 کی گرمیوں میں آرماڈا ہلال کی شکل میں (یعنی نئے چاند جیسی خم دار شکل میں) انگلش چینل (English Channel) میں داخل ہوا۔ انگریزی بیڑا پلیمتھ (Plymouth) سے نکلا اور گولہ باری کرتے ہوئے اس کا پیچھا کرتا رہا۔ جب آرماڈا نے فرانس میں کیلے (Calais) کے قریب لنگر ڈالا تو انگریزوں نے آدھی رات کو کچھ خالی جہازوں کو آگ لگا کر ہسپانوی بیڑے کی طرف بہا دیا۔ ہسپانوی جہازوں نے گھبراہٹ میں اپنے لنگروں کے رسے کاٹ دیے اور بکھر گئے، اور اگلے دن گریولین کی جنگ (Battle of Gravelines) میں انہیں شکست ہوئی۔
پھر جنوبی ہوا آرماڈا کے بچے کھچے جہازوں کو شمال کی طرف دھکیلتی لے گئی۔ گھر واپسی کا واحد راستہ اسکاٹ لینڈ کے اوپر سے گھوم کر آئرلینڈ کے مغربی ساحل کے ساتھ نیچے کی طرف تھا۔ راستے میں آرماڈا طوفانوں میں پھنس گیا، اور بہت سے جہاز چٹانوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گئے۔
آرماڈا کے خلاف جنگ، جیسا کہ فلپ جیمز ڈی لوتھربرگ (Philip James de Loutherbourg) نے 1796 میں اس کا تصور کیا۔ یہ پینٹنگ اب رائل میوزیمز گرینچ (Royal Museums Greenwich) میں ہے۔
پینٹنگ: Philip James de Loutherbourg، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons"آرماڈا پورٹریٹ" (Armada Portrait)۔ الزبتھ اول نے اپنا دایاں ہاتھ ایک گلوب پر رکھا ہوا ہے۔ پس منظر میں بائیں طرف کی کھڑکی میں آرماڈا آتا دکھائی دیتا ہے، اور دائیں طرف کی کھڑکی میں ہسپانوی جہاز طوفان میں ڈوب رہے ہیں۔
نامعلوم مصور (کبھی George Gower سمجھا جاتا تھا)، تقریباً 1588، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons
سب سے مشہور روایت یہ ہے کہ جب آرماڈا نظر آیا تو ڈریک (Drake) پلیمتھ میں سمندر کے اوپر گھاس کے میدان میں باؤلز (bowls) کھیل رہا تھا، یعنی ایک کھیل جس میں بھاری گیندیں گھاس پر لڑھکائی جاتی ہیں، اور اس نے اپنا کھیل ختم کرنے پر اصرار کیا۔ یہ کہانی کئی دہائیوں بعد جا کر تحریر میں آتی ہے، اس لیے زیادہ تر مؤرخین اسے ایک داستان سمجھتے ہیں۔ پھر بھی، مد و جزر اور ہوا نے واقعی کچھ دیر کے لیے انگریزی جہازوں کو بندرگاہ سے نکلنے نہیں دیا تھا، اس لیے اس کی بات میں وزن تھا۔
ایک اور مشہور جملہ اس تقریر سے آتا ہے جو الزبتھ اول نے ٹلبری (Tilbury) میں اپنے سپاہیوں کے سامنے کی: اس کا جسم شاید ایک کمزور عورت کا ہو، لیکن دل ایک بادشاہ کا ہے۔ وہ واقعی فوج کے پاس گئی اور ان سے خطاب کیا، لیکن آج ہم جو الفاظ جانتے ہیں وہ کئی دہائیوں بعد لکھے گئے، اس لیے کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس کے اصل الفاظ کیا تھے۔
سر فرانسس ڈریک اور گولڈن ہائنڈ
آرماڈا کو شکست دینے والے رہنماؤں میں سر فرانسس ڈریک (Sir Francis Drake) بھی تھا۔ اس نے انگلینڈ کی ایک بڑی بحری طاقت ہونے کی طویل روایت کی بنیاد رکھنے میں مدد کی۔ اس کا جہاز گولڈن ہائنڈ (Golden Hind) پوری دنیا کے گرد چکر لگانے والے ابتدائی جہازوں میں سے ایک تھا۔
ڈریک نے 1577 تا 1580 دنیا کے گرد سفر کیا، اور ایسا کرنے والا پہلا انگریز کپتان بنا۔ اس کے جہاز نے سفر Pelican (پیلیکن) کے نام سے شروع کیا اور راستے میں اس کا نام بدل کر گولڈن ہائنڈ رکھا گیا، اور جب وہ گھر لوٹا تو الزبتھ اول جہاز پر آئی اور عرشے پر ہی اسے نائٹ کا خطاب دیا۔ آج لندن میں دریائے ٹیمز کے جنوبی کنارے پر گولڈن ہائنڈ کی ایک پورے سائز کی نقل کھڑی ہے، اور آپ اس پر سوار ہو سکتے ہیں۔ البتہ ہسپانویوں کی نظر میں ڈریک ایک بحری قزاق تھا جو بار بار ان کے جہاز لوٹتا تھا۔
کوئز
Sir Francis Drake's ship was among the first to circumnavigate the globe. What was it called?
سوال اردو میںسر فرانسس ڈریک کا جہاز دنیا کے گرد چکر لگانے والے پہلے جہازوں میں سے ایک تھا۔ اس جہاز کا نام کیا تھا؟
گولڈن ہائنڈ (Golden Hind)۔ میری روز (Mary Rose) ہنری ہشتم کا جنگی جہاز تھا؛ ایچ ایم ایس وکٹری (HMS Victory) 1805 میں ٹریفالگر کی جنگ (Battle of Trafalgar) میں نیلسن (Nelson) کا کمانڈ جہاز تھا؛ اور مے فلاور (Mayflower) 1620 میں پیوریٹن (Puritan) آبادکاروں کے ایک گروہ کو امریکہ لے گیا۔ یہ تینوں حقیقی اور مشہور جہاز ہیں، اسی لیے یہ اچھے جال والے جواب بنتے ہیں۔
کوئز
Why did Spain send the Armada against England in 1588?
سوال اردو میں1588 میں اسپین نے انگلینڈ کے خلاف آرماڈا کیوں بھیجا؟ A: اسکاٹ لینڈ کے خلاف لڑائی میں الزبتھ اول کی مدد کرنے کے لیے B: ہنری ہشتم کو دوبارہ تخت پر بٹھانے کے لیے C: انگلینڈ پر حملہ کر کے کیتھولک مذہب واپس لانے کے لیے D: امریکہ کے مشرقی ساحل پر نوآبادیاں قائم کرنے کے لیے
اسپین ایک کیتھولک ملک تھا، اور اس کا مقصد انگلینڈ کو فتح کر کے کیتھولک مذہب بحال کرنا تھا۔ ہنری ہشتم تو 1547 میں ہی فوت ہو چکا تھا، اور امریکہ کے مشرقی ساحل پر نوآبادیاں انگریزوں نے قائم کیں، ہسپانویوں نے نہیں۔
اسکاٹ لینڈ: اصلاحِ مذہب اور اسکاٹس کی ملکہ میری
سرحد کے شمال میں اسکاٹ لینڈ اب بھی ایک الگ ملک تھا جس کے اپنے حکمران تھے، اور وہاں اصلاحِ مذہب اپنے ہی انداز سے آئی۔ اسکاٹ لینڈ بھی پروٹسٹنٹ بن گیا، لیکن انگلینڈ والے طریقے سے نہیں۔ 1560 میں اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ نے، جس کے زیادہ تر ارکان پروٹسٹنٹ تھے، اسکاٹ لینڈ میں پوپ کا اختیار ختم کر دیا، اور کیتھولک عبادات کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ نئے پروٹسٹنٹ چرچ آف اسکاٹ لینڈ (Church of Scotland) کی قیادت ایسے لوگ کرتے تھے جو اس کام کے لیے منتخب کیے جاتے تھے، اور چرچ آف انگلینڈ کے برعکس یہ سرکاری (ریاستی) چرچ نہیں تھا۔
اسکاٹ لینڈ کی اصلاحِ مذہب کا رہنما ایک مبلغ جان ناکس (John Knox) تھا۔ 1558 میں اس نے ایک کتابچہ شائع کیا جس میں عورتوں کے ملکوں پر حکومت کرنے کے خیال پر ہی حملہ کیا گیا تھا، اور اس کا نشانہ اُس زمانے کی کیتھولک ملکائیں تھیں۔ مگر وقت غلط تھا: اسی سال پروٹسٹنٹ الزبتھ اول تخت پر آئی، اور اس کے بعد اس نے ناکس کو کبھی پسند نہیں کیا۔
اسکاٹس کی ملکہ میری
اُس وقت اسکاٹ لینڈ کی ملکہ میری اسٹورٹ (Mary Stuart) تھی، جسے آج عام طور پر اسکاٹس کی ملکہ میری (Mary, Queen of Scots) کہا جاتا ہے۔ وہ کیتھولک تھی۔ جب وہ صرف ایک ہفتے کی تھی تو اس کا باپ فوت ہو گیا، اس لیے وہ دودھ پیتی بچی ہی تھی کہ ملکہ بن گئی۔ اس نے اپنا زیادہ تر بچپن فرانس میں گزارا۔
اسکاٹ لینڈ واپس آنے پر اس کے گرد حریف گروہ اقتدار کے لیے لڑتے رہے۔ جب اس کے شوہر کا قتل ہوا تو بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ اس میں اس کا بھی ہاتھ تھا۔ وہ بھاگ کر انگلینڈ چلی گئی اور اسکاٹ لینڈ کا تاج اپنے بیٹے جیمز ششم (James VI) کے لیے چھوڑ گئی، جو پروٹسٹنٹ تھا۔
میری اور الزبتھ اول کزن تھیں، اور میری کو اس سے مدد کی امید تھی۔ اس کے بجائے الزبتھ کو ڈر تھا کہ میری انگلینڈ کے تاج پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس نے میری کو 20 سال تک قید میں رکھا، اور آخرکار میری کو اس کے خلاف سازش کرنے کے جرم میں موت کی سزا دے دی گئی۔
اسکاٹس کی ملکہ میری، جسے فرانسیسی درباری مصور فرانسوا کلوئے (François Clouet) نے تقریباً 1558 تا 1560 میں پینٹ کیا۔ وہ اس وقت فرانس ہی میں رہ رہی تھی، اور کچھ عرصے کے لیے فرانس کی ملکہ بھی رہی۔
پینٹنگ: François Clouet، Royal Collection، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons
کوئز
Is the statement below TRUE or FALSE?
Mary, Queen of Scots, spent 20 years as Elizabeth I's prisoner before being put to death.
سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: اسکاٹس کی ملکہ میری نے سزائے موت سے پہلے 20 سال الزبتھ اول کی قیدی کے طور پر گزارے۔
درست (TRUE)۔ الزبتھ نے میری کو 20 سال قید میں رکھا، اور پھر میری کو اس کے خلاف سازش کرنے پر سزائے موت دی گئی۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ میری کیتھولک تھی، جبکہ اس کا بیٹا جیمز ششم (James VI) پروٹسٹنٹ تھا۔
الزبتھ کا دور: شیکسپیئر اور نئی دنیا
اب واپس انگلینڈ کی طرف۔ الزبتھ اول کو صرف سمندر کی ایک فتح کی وجہ سے یاد نہیں کیا جاتا۔ الزبتھ کے دور (Elizabethan period) نے آنے والی نسلوں کو جو سب سے بڑا تحفہ دیا وہ اس کی شاعری اور ڈرامہ تھا، اور سب سے بڑھ کر ولیم شیکسپیئر (William Shakespeare) (1564 تا 1616) کے ڈرامے اور نظمیں۔
شیکسپیئر اسٹریٹفورڈ اپان ایون (Stratford-upon-Avon) میں پیدا ہوا۔ وہ ڈرامہ نگار (یعنی ڈرامے لکھنے والا) بھی تھا اور اداکار بھی، اور اس نے بہت سے ڈرامے اور نظمیں لکھیں۔ اس نے تاریخ کے اہم لمحات کو اسٹیج پر پیش کیا، لیکن اس نے صرف بادشاہوں اور ملکاؤں کے بارے میں نہیں لکھا: وہ عام انگریز مردوں اور عورتوں کو اسٹیج پر دکھانے والے اولین ڈرامہ نگاروں میں سے تھا۔ بہت سے لوگ اسے اب تک کا سب سے عظیم ڈرامہ نگار سمجھتے ہیں۔ اس نے انگریزی زبان پر بھی گہرا اثر چھوڑا اور بہت سے ایسے الفاظ ایجاد کیے جو ہم آج بھی استعمال کرتے ہیں۔
اس کے مشہور ترین ڈراموں میں ہیملٹ (Hamlet)، میکبتھ (Macbeth)، رومیو اور جولیٹ (Romeo and Juliet) اور اے مڈسمر نائٹس ڈریم (A Midsummer Night's Dream) شامل ہیں۔
شیکسپیئر کی اداکار کمپنی نے لندن میں دریائے ٹیمز کے جنوبی کنارے پر گلوب تھیٹر (Globe Theatre) بنایا۔ 1613 میں Henry VIII نامی ڈرامے کے دوران خاص اثر کے طور پر اسٹیج پر چلائی گئی ایک توپ کی چنگاریاں چھپر کی چھت (یعنی خشک گھاس پھوس یا سرکنڈوں سے بنی چھت) پر جا گریں، اور پورا تھیٹر ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں جل کر راکھ ہو گیا۔ اُس زمانے کے ایک خط کے مطابق کوئی ہلاک نہیں ہوا؛ ایک آدمی کی پتلون میں آگ لگ گئی، اور کسی نے ایل (ale، ایک قسم کی بیئر) کی بوتل انڈیل کر آگ بجھائی۔ آج کا شیکسپیئرز گلوب (Shakespeare's Globe) ایک نقل ہے، جو 1997 میں اصل جگہ کے قریب دوبارہ بنایا گیا، اور یہ 1666 کی لندن کی بڑی آگ (Great Fire) کے بعد لندن کی پہلی عمارت تھی جسے چھپر کی چھت رکھنے کی اجازت ملی۔
"فرسٹ فولیو" (First Folio) کا سرورق، یعنی شیکسپیئر کے ڈراموں کا 1623 کا مجموعہ۔ اسے اس کی وفات کے سات سال بعد اس کے دو اداکار دوستوں نے مرتب کیا۔ اس میں شامل آدھے ڈرامے اس سے پہلے کبھی نہیں چھپے تھے؛ یہ کتاب نہ ہوتی تو شاید Macbeth ہمیشہ کے لیے کھو جاتا۔
کندہ کاری: Martin Droeshout، Beinecke Library اور Elizabethan Club، Yale University، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons
اس کی تحریروں کی سطریں آج بھی بار بار دہرائی جاتی ہیں، اور امتحان میں پوچھا جا سکتا ہے کہ کون سی سطریں شیکسپیئر کی ہیں:
Once more unto the breach
ہنری پنجم (Henry V): بادشاہ اپنے سپاہیوں کو ایک بار پھر دھاوا بولنے پر ابھارتا ہے
To be or not to be
ہیملٹ (Hamlet): ہیملٹ سوچتا ہے کہ جینا بہتر ہے یا مر جانا
A rose by any other name
رومیو اور جولیٹ (Romeo and Juliet): گلاب کا نام کچھ اور ہوتا تب بھی اس کی خوشبو اتنی ہی میٹھی ہوتی
All the world's a stage
ایز یو لائک اٹ (As You Like It): زندگی ایک ڈرامے کی طرح ہے، اور ہم سب اس کے اداکار ہیں
The darling buds of May
سانیٹ 18 (Sonnet 18): بہار کے پیارے نوخیز پھول
امریکہ میں پہلی نوآبادیاں
اسی دور میں انگریز آبادکاروں نے امریکہ کے مشرقی ساحل پر نوآبادیاں بسانا شروع کیں۔ اگلی صدی میں ان کے بعد اور بہت سے لوگ گئے، اور ان میں سے بہت سے ایسے تھے جو اگلے دو بادشاہوں کے مذہبی عقائد سے متفق نہیں تھے۔
چونکہ الزبتھ اول نے کبھی شادی نہیں کی، اس لیے اسے "کنواری ملکہ" (the Virgin Queen) کہا جاتا تھا۔ 1580 کی دہائی میں مہم جو والٹر ریلی (Walter Raleigh) نے شمالی امریکہ کے مشرقی ساحل پر لوگ بھیجے اور اس کے اعزاز میں اس سرزمین کا نام ورجینیا (Virginia) رکھا۔ آبادکاروں کے ایک گروہ نے روانوک (Roanoke) جزیرے پر ایک بستی بسائی، جو بعد میں بغیر کوئی نشان چھوڑے غائب ہو گئی اور "گمشدہ بستی" (Lost Colony) کے نام سے مشہور ہوئی۔ امریکہ میں انگلینڈ کی پہلی پائیدار بستی جیمز ٹاؤن (Jamestown) تھی، جو 1607 میں قائم ہوئی، لیکن اس کا تعلق اگلے باب سے ہے۔
الزبتھ اول ٹیوڈر خاندان کی آخری حکمران تھی۔ 1603 میں اس کی وفات کے بعد تاج اسکاٹ لینڈ میں اس کے رشتے داروں کو ملا، اور ایک نیا شاہی خاندان سامنے آیا: اسٹورٹ خاندان (the Stuarts)۔
کوئز
Which TWO of the following are lines from plays by William Shakespeare?
سوال اردو میںان میں سے کون سی دو سطریں ولیم شیکسپیئر کے ڈراموں سے ہیں؟ A: ایک بار پھر شگاف کی طرف (یعنی دشمن کی فصیل میں پڑے رخنے پر ایک اور دھاوا) B: ہم ساحلوں پر لڑیں گے C: ہونا یا نہ ہونا D: امید اور شان کی سرزمین
"Once more unto the breach" ہنری پنجم (Henry V) سے ہے، اور "To be or not to be" ہیملٹ (Hamlet) سے۔ B ونسٹن چرچل (Winston Churchill) کی 1940 کی ایک تقریر سے ہے۔ D وہ گیت ہے جو ایڈورڈ ایلگر (Edward Elgar) کے ایک مارچ کی دھن پر گایا جاتا ہے، اور اکثر پرامز کی آخری رات (Last Night of the Proms) میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں بعد کے ابواب میں آئیں گے۔
باب کا خلاصہ
ہنری ہفتم (Henry VII)
مضبوط مرکزی حکومت، کمزور امرا، پیسے کے معاملے میں محتاط