قرونِ وسطیٰ: میگنا کارٹا، کالی موت اور گلابوں کی جنگیں
یہ باب لگ بھگ 400 سال پر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں آپ کی ملاقات ایک ایسی دستاویز سے ہوگی جو صرف دس ہفتے چلی مگر آگے چل کر اس نے دنیا بدل دی؛ ایک ایسی وبا سے جس نے ہر تین میں سے ایک شخص کی جان لے لی؛ ایک ایسی زبان سے جسے امرا نے 300 سال تک نظرانداز کیا اور پھر وہ واپس لوٹ آئی؛ اور دو گلابوں کے درمیان ایک جنگ سے۔
اس باب میں آنے والی جگہیں۔ ⚔ کا نشان جنگ کو ظاہر کرتا ہے، قلعے کے نشان وہ قلعے ہیں جو ایڈورڈ اول (Edward I) نے ویلز میں بنوائے، اور دستاویز کا نشان رنی میڈ (Runnymede) ہے، جہاں بادشاہ نے میگنا کارٹا (Magna Carta) قبول کیا۔
نہ ختم ہونے والی جنگیں: ویلز، اسکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ
وسیع معنوں میں قرونِ وسطیٰ (Middle Ages)، جسے انگریزی میں medieval period بھی کہتے ہیں، تقریباً ایک ہزار سال پر پھیلا ہوا ہے: 476 عیسوی سے، جب رومی سلطنت ختم ہوئی، 1485 تک۔ یہ باب کہانی نارمن فتح (Norman Conquest) کے بعد سے شروع کرتا ہے۔ انگلینڈ کے قرونِ وسطیٰ کے بادشاہ شاید ہی کبھی امن سے رہے ہوں۔ وہ زمین کے لیے ویلز، اسکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ کے سرداروں سے لڑتے رہے، اور ان تینوں کہانیوں کا انجام الگ الگ ہوا۔
ویلز: قلعوں کے زور پر قابو میں رکھا گیا ملک
1284 میں بادشاہ ایڈورڈ اول (Edward I) نے رِدلان کا قانون (Statute of Rhuddlan) جاری کیا (statute کا مطلب ہے تحریری قانون)۔ اس قانون نے ویلز کو انگریز تاج (English Crown) کی حکمرانی میں دے دیا۔ اپنی نئی زمین پر گرفت مضبوط رکھنے کے لیے ایڈورڈ نے شمالی ویلز میں بہت بڑے بڑے قلعوں کا ایک سلسلہ بنوایا، جیسے کانوی (Conwy) اور کیرنارفن (Caernarvon)۔ (آج اس نام کا ہجا Caernarfon لکھا جاتا ہے۔) ویلز کی آخری بغاوتیں پندرھویں صدی کے وسط تک کچل دی گئیں، اور اس کے بعد ویلز میں انگریزی قانون اور انگریزی زبان رائج کر دی گئی۔
کانوی قلعہ (Conwy Castle)، جسے ایڈورڈ اول نے بنوایا۔ اس پر کام 1283 میں شروع ہوا۔ پورا قصبہ تقریباً 1.3 کلومیٹر لمبی فصیل سے گھرا ہوا ہے جس میں 21 برج ہیں، اور آپ آج بھی اس فصیل کے اوپر چل سکتے ہیں۔ اس فصیل میں قرونِ وسطیٰ کے 12 بیت الخلا کی ایک قطار بھی ہے، جو بہت نایاب چیز ہے۔
تصویر: Nilfanion / Wikimedia UK، CC BY-SA 4.0، بذریعہ Wikimedia Commons
اسکاٹ لینڈ: بینک برن میں ایک ہی وار
انگلینڈ اسکاٹ لینڈ کو بھی حاصل کرنا چاہتا تھا، لیکن کبھی کامیاب نہ ہو سکا۔ 1314 میں اسکاٹ لینڈ کے بادشاہ رابرٹ دی بروس (Robert the Bruce) نے انگریز بادشاہ ایڈورڈ دوم (Edward II) کی فوج کو بینک برن کی جنگ (Battle of Bannockburn) میں شکست دی۔ انگریز کبھی اسکاٹ لینڈ کو فتح نہیں کر سکے۔
اس جنگ کا آغاز ایک دو بدو مقابلے سے ہوا۔ لڑائی کے پہلے دن ہنری ڈی بوہن (Henry de Bohun) نام کے ایک انگریز نائٹ (گھڑ سوار جنگجو) نے رابرٹ دی بروس کو پہچان لیا اور لمبا نیزہ لے کر سیدھا اس پر جھپٹا۔ رابرٹ نے اپنا گھوڑا ایک طرف ہٹایا اور اپنی کلہاڑی نائٹ کے خود (ہیلمٹ) پر دے ماری، جس سے خود دو ٹکڑے ہو گیا۔ اسکاٹ سپاہی جوش سے بھر گئے، اور اگلے دن انہوں نے جنگ جیت لی۔
آئرلینڈ: مدد کو آئے، اور وہیں رہ گئے
قرونِ وسطیٰ کے شروع میں آئرلینڈ ایک الگ آزاد ملک تھا۔ انگریز فوجی پہلی بار وہاں اس لیے پہنچے کہ ایک آئرش بادشاہ نے ان سے مدد مانگی تھی۔ پھر انہوں نے وہیں رہنے کا فیصلہ کر لیا۔ 1200 تک انگریز ڈبلن (Dublin) کے گرد ایک علاقے پر حکومت کر رہے تھے جسے پیل (the Pale) کہا جاتا ہے، اور آئرلینڈ کے دوسرے حصوں میں کچھ طاقتور سرداروں نے مان لیا تھا کہ حاکم انگریز بادشاہ ہی ہے۔
کوئز
In the broad sense, which period of time do the Middle Ages (the medieval period) cover?
سوال اردو میںوسیع معنوں میں قرونِ وسطیٰ کس دور پر محیط ہے؟
قرونِ وسطیٰ 476 میں رومی سلطنت کے خاتمے سے شروع ہو کر 1485 میں ختم ہوتا ہے، یعنی کل تقریباً ایک ہزار سال، اگرچہ اس باب کی کہانی 1066 کے بعد سے شروع ہوتی ہے۔ 43 تا 410 عیسوی وہ زمانہ ہے جب رومیوں نے برطانیہ پر حکومت کی، 1485 تا 1603 ٹیوڈر دور ہے، اور 1603 تا 1714 اسٹورٹ دور۔
کوئز
Which battle in 1314 meant that the English never conquered Scotland?
سوال اردو میں1314 کی کس جنگ کی وجہ سے انگریز کبھی اسکاٹ لینڈ کو فتح نہ کر سکے؟
بینک برن (Bannockburn)، 1314: رابرٹ دی بروس نے انگریزوں کو شکست دی۔ ہیسٹنگز (Hastings) کی جنگ 1066 میں ہوئی، ایجن کورٹ (Agincourt) کی 1415 میں اور بوسورتھ (Bosworth) کی 1485 میں۔ یہ چاروں جنگیں اکثر ایک ہی سوال کے جوابوں میں اکٹھی دی جاتی ہیں، اس لیے ہر ایک کو اس کے سال کے ساتھ یاد کریں۔
کوئز
Is the statement below TRUE or FALSE?
The Statute of Rhuddlan, introduced by Edward I in 1284, brought Wales under the English Crown.
سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: 1284 میں ایڈورڈ اول کے جاری کیے ہوئے رِدلان کے قانون نے ویلز کو انگریز تاج کے تحت کر دیا۔
درست (TRUE)۔ یاد رکھنے کے لیے: 1284 میں ایڈورڈ اول نے ایک قانون اور قلعوں کے ایک گھیرے سے ویلز کو جکڑ دیا۔
بیرونِ ملک لڑائیاں: صلیبی جنگیں اور سو سالہ جنگ
انگریز سمندر پار بھی لڑے۔ بہت سے نائٹ صلیبی جنگوں (Crusades) میں شامل ہوئے۔ یہ وہ جنگیں تھیں جن میں پورے یورپ کے عیسائیوں نے ارضِ مقدس (Holy Land) پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔
انگریز بادشاہ فرانس سے بھی لڑے، اور اس لڑائی کو سو سالہ جنگ (Hundred Years War) کہتے ہیں۔ نام سے دھوکا نہ کھائیں: یہ دراصل 116 سال چلی۔ اس کی سب سے مشہور لڑائی 1415 میں ایجن کورٹ (Agincourt) میں ہوئی۔ وہاں بادشاہ ہنری پنجم (Henry V) جیت گیا، حالانکہ فرانسیسی فوج اس کی فوج سے کہیں بڑی تھی۔ پھر بھی 1450 کی دہائی تک انگریز کم و بیش فرانس سے نکل چکے تھے۔
پندرھویں صدی کی کتاب St Albans Chronicle میں ایجن کورٹ کی جنگ کی تصویر۔
Lambeth Palace Library MS 6، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons
اُس زمانے میں کوئی اسے "سو سالہ جنگ" (Hundred Years War) نہیں کہتا تھا۔ یہ نام فرانسیسی مصنفین نے انیسویں صدی میں جا کر رکھا، اور "گلابوں کی جنگیں" (the Wars of the Roses) کا نام بھی بہت بعد میں پڑا؛ جو لوگ ان جنگوں کے دوران جی رہے تھے، انہیں بس یہ لگتا تھا کہ لڑائی کبھی ختم نہیں ہوگی۔ ہو سکتا ہے آپ نے انٹرنیٹ پر یہ بھی پڑھا ہو کہ دو انگلیوں والا بدتمیزی کا "V" اشارہ انگریز تیر اندازوں سے شروع ہوا، جو یہ دکھاتے تھے کہ فرانسیسیوں کے ہاتھوں کٹنے سے ان کی انگلیاں ابھی بچی ہوئی ہیں۔ یہ کہانی بہت مشہور ہے، لیکن اُس زمانے کا کوئی ریکارڈ اس کی تصدیق نہیں کرتا، اس لیے غالباً یہ بعد میں گھڑی گئی ایک داستان ہے۔
کوئز
How long did the Hundred Years War actually last?
سوال اردو میںسو سالہ جنگ اصل میں کتنے عرصے چلی؟
اسے سو سالہ جنگ کہتے ہیں، لیکن یہ اصل میں 116 سال چلی۔ ایسے سوال اکثر آتے ہیں جن میں نام اور حقیقت آپس میں میل نہیں کھاتے۔
جاگیرداری نظام: وفاداری کے بدلے زمین
اتنی ساری جنگوں کے لیے سپاہی چاہیے تھے، اور بادشاہ یہ سپاہی زمین کی تقسیم کے ذریعے حاصل کرتا تھا۔ اس دور میں معاشرہ زمین کے گرد گھومتا تھا۔ نارمن اپنے ساتھ زمین کا ایک نظام لائے جسے جاگیرداری نظام (feudalism) کہتے ہیں۔ بادشاہ اپنے لارڈز (بڑے جاگیرداروں) میں زمین بانٹتا تھا، اور اس کے بدلے لارڈز کو جنگ کے وقت بادشاہ کا ساتھ دینا ہوتا تھا۔ جس کے پاس بھی زمین تھی، اسے لڑنے کے لیے ایک طے شدہ تعداد میں آدمی مہیا کرنے ہوتے تھے۔ چند کسانوں کی اپنی زمین تھی، لیکن زیادہ تر کسان سرف (serfs) تھے۔ سرف کو لارڈ کی زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ملتا تھا جس پر وہ اپنی خوراک اگاتا تھا۔ اس کے بدلے اسے لارڈ کے لیے کام کرنا پڑتا تھا، اور وہ اپنی مرضی سے وہاں سے جا نہیں سکتا تھا۔
اسکاٹ لینڈ کے جنوب میں بھی یہی نظام پروان چڑھا۔ لیکن اسکاٹ لینڈ کے شمال اور آئرلینڈ میں زمین قبیلوں (clans) کے افراد کی ملکیت تھی، یعنی بڑے اور اہم خاندانوں کی۔
کوئز
Which of the following statements is correct?
سوال اردو میںان میں سے کون سا بیان درست ہے؟ A: جاگیرداری نظام میں زیادہ تر کسان اپنے کھیتوں کے مالک تھے اور جہاں چاہتے جا سکتے تھے۔ B: جاگیرداری نظام میں لارڈز کو بادشاہ سے زمین ملتی تھی، اور اس کے بدلے انہیں بادشاہ کی جنگوں میں لڑنے کے لیے آدمی مہیا کرنے ہوتے تھے۔
جاگیرداری نظام میں بادشاہ لارڈز کو زمین دیتا تھا، اور لارڈز اس کے لیے لڑنے کو آدمی بھیجتے تھے۔ A غلط ہے: صرف کچھ کسانوں کے پاس اپنی زمین تھی۔ زیادہ تر سرف تھے، جنہیں اپنے لارڈ کے لیے کام کرنا پڑتا تھا اور وہاں سے جانے کی اجازت نہیں تھی۔
کالی موت: ہر تین میں سے ایک
لارڈز اور سرفوں کا یہ نظام بہت عرصے تک اٹل لگتا تھا، لیکن چودھویں صدی کے وسط میں ایک آفت نے اسے ہلا کر رکھ دیا۔ 1348 میں ایک وبا برطانیہ پہنچی۔ بعد میں اسے کالی موت (Black Death) کہا جانے لگا۔ انگلینڈ میں تقریباً ہر تین میں سے ایک شخص مر گیا، اور اسکاٹ لینڈ اور ویلز کی آبادی کا بھی لگ بھگ اتنا ہی حصہ ختم ہو گیا۔ یہ برطانوی تاریخ کی بدترین آفتوں میں سے ایک تھی۔
بچ گیا
بچ گیا
کالی موت سے مر گیا
آج کے بیلجیم کے شہر تورنائی (Tournai) کے لوگ 1349 میں کالی موت سے مرنے والوں کو دفنا رہے ہیں۔ یہ تصویر وبا کے کچھ ہی عرصے بعد بنائی گئی۔
پینٹنگ: Pierart dou Tielt، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons
اتنے زیادہ لوگوں کے اچانک مر جانے سے معاشرہ بدل گیا:
کھانے والے کم رہ گئے، اس لیے کسانوں کو کم اناج اگانے کی ضرورت رہ گئی۔
کام کرنے والے کم رہ گئے، اس لیے کسان زیادہ اجرت مانگنے لگے۔
معاشرے میں نئے طبقے سامنے آئے، جیسے بڑی بڑی جاگیروں کے مالک۔ بعد میں انہیں جینٹری (gentry) کہا جانے لگا۔
بہت سے لوگ دیہات چھوڑ کر قصبوں میں آ بسے۔ قصبے زیادہ خوشحال ہو گئے، اور ایک مضبوط متوسط طبقہ (middle class) وجود میں آیا۔
کوئز
Approximately what proportion of the population of England died in the Black Death of 1348?
سوال اردو میں1348 کی کالی موت میں انگلینڈ کی آبادی کا تقریباً کتنا حصہ مر گیا؟
تقریباً ایک تہائی (one third)۔ عام طور پر جال والے جواب "آدھا" (one half) اور "ایک چوتھائی" (one quarter) ہوتے ہیں۔ تصور کریں کہ تین لوگ ایک قطار میں کھڑے ہیں، اور ان میں سے ایک غائب ہے۔
میگنا کارٹا: بادشاہ کو بھی قانون ماننا ہوگا
لارڈز بادشاہ کو سپاہی دیتے تھے، لیکن وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ بادشاہ ان کے حقوق کا احترام کرے۔ یہ خیال پہلی بار کیسے لکھا گیا، یہ جاننے کے لیے ہمیں کالی موت سے سو سال سے بھی زیادہ پیچھے جانا ہوگا۔ 1215 میں بادشاہ جان (King John) کا اپنے امرا سے سخت جھگڑا ہو گیا۔ (جان نام کا بادشاہ آج تک صرف ایک ہی ہوا ہے، اسی لیے اس کے نام کے بعد کوئی نمبر نہیں ہے۔) وہ بار بار ٹیکس بڑھاتا اور جنگیں ہارتا رہا، اور آخرکار امرا کا صبر جواب دے گیا۔ لندن کے مغرب میں دریائے ٹیمز (River Thames) کے کنارے ایک سبزہ زار رنی میڈ (Runnymede) میں انہوں نے اسے میگنا کارٹا (Magna Carta) نام کی ایک دستاویز قبول کرنے پر مجبور کیا۔ یہ لاطینی نام ہے جس کا مطلب ہے "عظیم منشور" (Great Charter)۔ اس وقت تک بادشاہ کے اختیار پر تقریباً کوئی سرکاری پابندی نہیں تھی۔
اس کے پیچھے بڑا خیال سادہ تھا: بادشاہ کو بھی قانون کی پابندی کرنی ہوگی۔ اس نے امرا کے حقوق کی حفاظت کی اور بادشاہ کو اپنی مرضی سے ٹیکس بڑھانے، یا قانون بنانے اور بدلنے سے روک دیا۔
1215 کا ایک اصل میگنا کارٹا، جو برٹش لائبریری (British Library) میں محفوظ ہے۔ پوری عبارت لاطینی میں ہے اور پارچمنٹ (parchment) کی ایک ہی شیٹ پر لکھی گئی ہے، یعنی جانور کی کھال جسے لکھنے کے لیے تیار کیا جاتا تھا۔
British Library، Cotton MS Augustus II.106، CC0، بذریعہ Wikimedia Commons
عملی طور پر میگنا کارٹا صرف تقریباً دس ہفتے چلا۔ اسی سال اگست میں پوپ (Pope) نے اسے کالعدم قرار دے دیا، اور بادشاہ اور امرا جلد ہی پھر سے جنگ میں الجھ گئے؛ بعد کے بادشاہوں نے اس کے کئی نئے نسخے جاری کیے، اور آہستہ آہستہ ہی یہ انگریزی قانون کی بنیادوں میں سے ایک بنا۔ بادشاہ جان نے اس پر کبھی دستخط بھی نہیں کیے، اس کے بجائے اس پر شاہی مہر لگائی گئی۔ 1215 کی صرف چار نقلیں باقی بچی ہیں: دو برٹش لائبریری میں ہیں، اور باقی دو لنکن (Lincoln) اور سالسبری (Salisbury) کے کیتھیڈرلز (بڑے گرجا گھروں) کی ملکیت ہیں۔
پارلیمنٹ کی پیدائش
بادشاہوں کے پاس ہمیشہ مشیروں کا ایک حلقہ ہوتا تھا، جس میں طاقتور امرا اور چرچ کے رہنما شامل تھے۔ جب بھی بادشاہ کو پیسوں کی ضرورت ہوتی، وہ انہیں ایک اجلاس کے لیے اکٹھا کرتا۔ یہیں سے پارلیمنٹ (Parliament) کی شروعات ہوئی۔ وقت کے ساتھ یہ دو حصوں میں بٹ گئی، جنہیں "ایوان" (Houses) کہتے ہیں:
دارالامرا (House of Lords)
امرا، بڑے زمیندار اور بشپ (چرچ کے بڑے عہدیدار)
دارالعوام (House of Commons)
نائٹ (عام طور پر چھوٹے زمیندار) اور قصبوں کے امیر لوگ
لیکن دارالعوام کے ارکان کو ووٹ دینے کا حق بہت ہی کم لوگوں کے پاس تھا۔ اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ تین گروہوں پر مشتمل تھی، جنہیں اسٹیٹس (Estates) کہا جاتا تھا: لارڈز، عوام (commons) اور پادری طبقہ (clergy)، یعنی چرچ کے رہنما۔
اسی دور میں یہ خیال بھی شکل لینے لگا کہ جج حکومت سے آزاد ہونے چاہییں۔ انگلینڈ میں جج پہلے کے فیصلوں اور پرانی روایات کو دیکھ کر مقدمات کا فیصلہ کرتے تھے، اور اسی سے رفتہ رفتہ کامن لا (common law) بنا۔ اسکاٹ لینڈ میں قانون کو "مدوّن" (codified) کیا گیا، یعنی اسے قواعد کے ایک مجموعے کی صورت میں لکھ دیا گیا۔
کوئز
What did the Magna Carta establish in 1215?
سوال اردو میں1215 میں میگنا کارٹا نے کیا اصول قائم کیا؟ A: کہ بادشاہ بھی قانون کے تابع ہے B: کہ تمام بالغ افراد ووٹ دے سکتے ہیں C: کہ انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کی ایک ہی مشترکہ پارلیمنٹ ہوگی D: کہ چرچ آف انگلینڈ روم سے آزاد ہے
میگنا کارٹا کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ بادشاہ کو بھی قانون ماننا ہوگا۔ تمام بالغوں کو ووٹ کا حق بیسویں صدی میں جا کر ملا؛ انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کی مشترکہ پارلیمنٹ 1707 میں شروع ہوئی؛ اور انگریزی چرچ کو روم سے الگ کرنے والا ہنری ہشتم (Henry VIII) تھا۔
کوئز
In the Middle Ages, who sat in the House of Commons?
سوال اردو میںقرونِ وسطیٰ میں دارالعوام (House of Commons) میں کون بیٹھتا تھا؟ A: بشپ اور بڑے زمیندار B: صرف شاہی خاندان کے افراد C: نائٹ اور قصبوں اور شہروں کے امیر لوگ D: انگلینڈ کے تمام کسان
A میں دارالامرا (House of Lords) کے ارکان کا ذکر ہے۔ دارالعوام میں نائٹ (چھوٹے زمیندار) اور قصبوں کے امیر لوگ ہوتے تھے۔
انگریزی کی واپسی: چاسر اور کیکسٹن
پچھلے باب میں آپ نے دیکھا کہ نارمن فتح کے بعد امرا فرانسیسی بولتے تھے جبکہ کسان قدیم انگریزی (Old English) بولتے تھے۔ تین سو سال بعد صورتِ حال پلٹ چکی تھی۔ 1400 تک انگلینڈ میں سرکاری کاغذات انگریزی میں لکھے جانے لگے تھے، اور شاہی دربار اور پارلیمنٹ اب فرانسیسی کے بجائے انگریزی کو ترجیح دیتے تھے۔
اس زمانے کا سب سے مشہور ادیب جیفری چاسر (Geoffrey Chaucer) تھا۔ اس نے انگریزی میں نظموں کا ایک مجموعہ لکھا جس کا نام The Canterbury Tales (کینٹربری کی کہانیاں) ہے۔ اس میں زائرین (یعنی مذہبی سفر پر جانے والے لوگوں) کا ایک گروہ ایک ساتھ کینٹربری (Canterbury) جا رہا ہے، اور راستے میں وقت گزارنے کے لیے وہ باری باری کہانیاں سناتے ہیں۔
شاعری چاسر کی اصل نوکری نہیں تھی۔ وہ ایک شاہی افسر تھا جو بادشاہ کے تعمیراتی کاموں کا نگران تھا، اور 1400 میں جب وہ فوت ہوا تو اسی عہدے کی وجہ سے اسے ویسٹ منسٹر ایبی (Westminster Abbey) میں قبر ملی۔ بعد میں زیادہ سے زیادہ شاعر اس کے قریب دفن ہوتے گئے، اور ایبی کا وہ حصہ مشہور "پوئٹس کارنر" (Poets' Corner) یعنی شاعروں کا گوشہ بن گیا۔
پندرھویں صدی کے اوائل کے ایلزمیئر نسخے (Ellesmere manuscript) میں چاسر، جو بالکل اپنے زائرین کی طرح گھوڑے پر سوار ہے۔
نامعلوم مصور، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons
بعد میں ولیم کیکسٹن (William Caxton) انگلینڈ میں چھاپہ خانے (printing press) سے کتابیں چھاپنے والا پہلا شخص بنا، اور The Canterbury Tales اس کی چھاپی ہوئی بالکل ابتدائی کتابوں میں سے ایک تھی۔ اس سے پہلے ہر کتاب کو ہاتھ سے، لفظ بہ لفظ نقل کرنا پڑتا تھا۔ چھاپہ خانے کی بدولت آخرکار انگریزی کتابیں بڑی تعداد میں تیار ہو سکتی تھیں۔
The Canterbury Tales کے اس ایڈیشن کا ایک صفحہ جو کیکسٹن نے لندن کے علاقے ویسٹ منسٹر (Westminster) میں چھاپا (تقریباً 1477)۔
Beinecke Library، Yale University، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons
اسکاٹ لینڈ میں بہت سے لوگ اب بھی گیلک (Gaelic) بولتے تھے، جبکہ اسکاٹس (Scots) زبان بھی پروان چڑھ رہی تھی۔ شاعر جان باربر (John Barbour) نے اسکاٹس زبان میں ایک طویل نظم The Bruce لکھی، جو بینک برن کی جنگ کی کہانی سناتی ہے۔
قلعے، بڑے گرجا گھر اور بیرونِ ملک سے آئے ہنرمند
قرونِ وسطیٰ میں بہت سے قلعے بنے، اور ان میں سے کچھ آج بھی استعمال ہو رہے ہیں، جیسے ونڈسر (Windsor) اور ایڈنبرا (Edinburgh)۔ بڑے بڑے کیتھیڈرل (بڑے گرجا گھر) بھی بنے، جیسے لنکن (Lincoln)۔ ان کی کھڑکیاں اکثر رنگین شیشے (stained glass) کی ہوتی تھیں، جن پر بائبل کی اور سینٹس (مقدس ہستیوں) کی کہانیاں دکھائی جاتی تھیں۔ یارک منسٹر (York Minster) اس کی ایک مشہور مثال ہے۔
انگلینڈ نے بیرونِ ملک اون بیچ کر بہت پیسہ کمایا۔ اس نے دوسرے ملکوں سے ہنرمند کاریگر بھی اپنی طرف کھینچے: فرانس سے جولاہے، جرمنی سے انجینئر، اٹلی سے شیشہ بنانے والے، اور ہالینڈ (Holland) سے ایسے لوگ جو نہریں بنانا جانتے تھے۔
کوئز
Who wrote The Canterbury Tales, a collection of poems about pilgrims travelling to Canterbury?
سوال اردو میںکینٹربری جانے والے زائرین کے بارے میں نظموں کا مجموعہ The Canterbury Tales کس نے لکھا؟
چاسر (Chaucer) نے اسے لکھا؛ کیکسٹن (Caxton) نے اسے چھاپا۔ دونوں نام C سے شروع ہوتے ہیں اور آسانی سے گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔ انہیں الگ رکھنے کی ایک ترکیب: "Chaucer" کی آواز کچھ کچھ "author" (مصنف) جیسی ہے، اور مصنف وہی تھا۔
کوئز
Is the statement below TRUE or FALSE?
In England, the first person to produce books on a printing press was William Caxton.
سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: انگلینڈ میں چھاپہ خانے پر کتابیں تیار کرنے والا پہلا شخص ولیم کیکسٹن تھا۔
درست (TRUE)۔ کیکسٹن انگلینڈ میں چھپائی لایا اور اس نے لندن کے علاقے ویسٹ منسٹر (Westminster) میں اپنا چھاپہ خانہ لگایا۔
گلابوں کی جنگیں: سرخ اور سفید مل کر ایک گلاب بن گئے
فرانس میں شکست نے انگلینڈ کے امرا کو ناراض اور آپس میں تقسیم کر دیا تھا، اور بادشاہ ہنری ششم (Henry VI) کمزور تھا اور کبھی کبھی ذہنی بیماری کا شکار ہو جاتا تھا۔ 1455 میں امرا کے دو خاندانوں کے درمیان خانہ جنگی چھڑ گئی۔ دونوں خاندان انگلینڈ کا تاج چاہتے تھے:
ہاؤس آف لنکاسٹر (House of Lancaster)، یعنی لنکاسٹر کا خاندان، جس کا نشان سرخ گلاب تھا
ہاؤس آف یارک (House of York)، یعنی یارک کا خاندان، جس کا نشان سفید گلاب تھا
اس جنگ کو گلابوں کی جنگیں (Wars of the Roses) کہا جاتا ہے۔ 1485 میں بوسورتھ فیلڈ کی جنگ (Battle of Bosworth Field) میں یارک خاندان کا بادشاہ رچرڈ سوم (Richard III) مارا گیا۔ لنکاسٹر کی طرف کے رہنما ہنری ٹیوڈر (Henry Tudor) نے تخت سنبھالا اور ہنری ہفتم (Henry VII) بن گیا۔
مارے جانے کے بعد رچرڈ سوم کو لیسٹر (Leicester) کی ایک خانقاہ کے گرجا گھر میں جلدی جلدی دفنا دیا گیا، اور صدیاں گزرنے کے ساتھ لوگ بھول گئے کہ ٹھیک کس جگہ۔ 2012 میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو لیسٹر کے مرکز میں ایک کار پارک کے نیچے اس کا ڈھانچہ ملا۔ 2015 میں اسے دوبارہ دفنایا گیا، اس بار لیسٹر کیتھیڈرل (Leicester Cathedral) میں۔
ہنری ہفتم ایک سمجھدار آدمی تھا۔ اس نے رچرڈ سوم کی بھتیجی الزبتھ آف یارک (Elizabeth of York) سے شادی کی، اور یوں دونوں حریف خاندان ایک ہو گئے۔ وہ ٹیوڈر خاندان (House of Tudor) کا پہلا بادشاہ بنا۔ اس کے خاندانی نشان میں ایک سرخ گلاب کے اندر سفید گلاب تھا، جسے ٹیوڈر گلاب (Tudor rose) کہا جاتا تھا۔ یہ سب کو بتاتا تھا کہ یارک اور لنکاسٹر اب ایک ہی طرف ہیں۔
بوسورتھ کی جنگ کو اکثر انگلینڈ میں قرونِ وسطیٰ کا خاتمہ سمجھا جاتا ہے۔ ہنری ہفتم کا ٹیوڈر خاندان سو سال سے زیادہ حکومت کرے گا اور ملک کو ایک نیا چرچ دے گا۔ اگلا باب انہی کی کہانی ہے۔
ٹیوڈر گلاب نے دو دشمن خاندانوں کے گلابوں کو یکجا کر دیا، اس بات کی علامت کے طور پر کہ خانہ جنگی ختم ہو گئی ہے۔
کوئز
In the Wars of the Roses, which family's symbol was the red rose?
سوال اردو میںگلابوں کی جنگوں میں سرخ گلاب کس خاندان کا نشان تھا؟
لنکاسٹر (Lancaster) کا نشان سرخ گلاب تھا اور یارک (York) کا سفید گلاب۔ اسٹورٹ (Stuart) اور ونڈسر (Windsor) بعد کے زمانے کے شاہی خاندان ہیں۔
کوئز
Which TWO statements about the Battle of Bosworth Field in 1485 are correct?
سوال اردو میں1485 کی بوسورتھ فیلڈ کی جنگ کے بارے میں کون سے دو بیان درست ہیں؟ A: ہنری ہفتم اس جنگ میں مارا گیا۔ B: بادشاہ رچرڈ سوم اس جنگ میں مارا گیا۔ C: اس جنگ سے سو سالہ جنگ ختم ہوئی۔ D: ہنری ٹیوڈر بادشاہ ہنری ہفتم بن گیا۔
مرنے والا بادشاہ رچرڈ سوم (Richard III) تھا، اور جیتنے والا ہنری ٹیوڈر (Henry Tudor) ہنری ہفتم (Henry VII) بنا۔ بوسورتھ کی جنگ سے گلابوں کی جنگیں ختم ہوئیں، سو سالہ جنگ نہیں۔
باب کا خلاصہ
476 تا 1485: قرونِ وسطیٰ (Middle Ages)
وسیع معنوں میں پورا دور؛ یہ باب کہانی 1066 کے بعد سے سناتا ہے
1215: میگنا کارٹا (Magna Carta)
بادشاہ جان کو اسے قبول کرنا پڑا: بادشاہ کو بھی قانون ماننا ہوگا
1284: رِدلان (Rhuddlan)
ایڈورڈ اول نے ویلز کو انگریز تاج کے تحت کیا اور کانوی اور کیرنارفن جیسے قلعے بنوائے
1314: بینک برن (Bannockburn)
رابرٹ دی بروس نے انگریزوں کو شکست دی؛ اسکاٹ لینڈ کبھی فتح نہیں ہوا
پیل (the Pale)
ڈبلن کے آس پاس کا وہ علاقہ جس پر آئرلینڈ میں انگریزوں کی حکومت تھی
جاگیرداری نظام (Feudalism)
بادشاہ جنگ کے لیے سپاہیوں کے بدلے لارڈز کو زمین دیتا تھا؛ زیادہ تر کسان سرف تھے جو کہیں جا نہیں سکتے تھے
1348: کالی موت (Black Death)
انگلینڈ کے تقریباً ایک تہائی لوگ مر گئے؛ اس کے بعد اجرتیں بڑھیں، اور جینٹری اور متوسط طبقہ ابھرے
پارلیمنٹ (Parliament)
دارالامرا: امرا، بڑے زمیندار، بشپ۔ دارالعوام: نائٹ اور قصبوں کے امیر لوگ
سو سالہ جنگ (Hundred Years War)
اصل میں 116 سال چلی؛ 1415 میں ہنری پنجم نے ایجن کورٹ میں فتح پائی
1400: انگریزی
1400 تک انگریزی سرکاری دستاویزات میں استعمال ہونے لگی اور دربار اور پارلیمنٹ میں اسے ترجیح دی جانے لگی
چاسر / کیکسٹن
چاسر نے The Canterbury Tales لکھی؛ کیکسٹن انگلینڈ میں کتابیں چھاپنے والا پہلا شخص تھا
1455 تا 1485: گلابوں کی جنگیں
لنکاسٹر سرخ، یارک سفید؛ بوسورتھ کے بعد ہنری ہفتم نے تخت سنبھالا؛ ٹیوڈر گلاب