انگلینڈ میں کسی فوجداری مقدمے کی جیوری 12 لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے، اور آخر میں وہ صرف "قصوروار" (guilty) یا "بے قصور" (not guilty) کہہ سکتے ہیں۔ سرحد پار کر کے اسکاٹ لینڈ جائیں تو جیوری کے 15 ارکان ہوتے ہیں، اور ان کے پاس ایک تیسرا راستہ بھی ہوتا ہے: "جرم ثابت نہیں ہوا" (not proven)۔
ایک ہی ملک میں عدالتیں اتنی مختلف کیوں نظر آتی ہیں؟ یہ باب اس قانون سے شروع ہوتا ہے جس سے روزمرہ زندگی میں آپ کا واسطہ پڑ سکتا ہے، پھر یہ بتاتا ہے کہ پولیس کیا کرتی ہے اور جج کتنے آزاد ہیں، اور آخر میں برطانیہ کے تینوں عدالتی نظاموں کو ساتھ ساتھ رکھ کر دکھاتا ہے۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ قانون کو جاننا اور اس کی پابندی کرنا برطانیہ میں رہنے والے ہر شخص کے سب سے بڑے فرائض میں سے ایک ہے۔ یہاں ہر پس منظر کے لوگوں کا خیرمقدم ہے، لیکن کچھ کام جن کی دوسرے ملکوں میں اجازت ہے، برطانیہ میں بالکل اجازت نہیں۔ جو شخص قانون کا احترام نہیں کرتا، وہ یہ امید نہیں رکھ سکتا کہ اسے مستقل رہائش (permanent residence) مل جائے گی۔
قانون کی نظر میں سب برابر: فوجداری اور دیوانی قانون
برطانوی قانون کا پہلا اصول سادہ ہے: قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ آپ کوئی بھی ہوں اور کہیں سے بھی آئے ہوں، قانون آپ کے ساتھ انہی قواعد کے مطابق سلوک کرتا ہے جو باقی سب پر لاگو ہوتے ہیں۔
قانون کی دو بڑی قسمیں ہیں:
فوجداری قانون (Criminal law) جرائم سے متعلق ہے۔ مقدمات کی تفتیش عام طور پر پولیس کرتی ہے، یا کبھی کبھی کوئی دوسرا ادارہ جیسے مقامی کونسل، اور سزا کا فیصلہ عدالتیں کرتی ہیں۔
دیوانی قانون (Civil law) لوگوں کے درمیان یا گروہوں کے درمیان تنازعات حل کرنے کے لیے ہے۔
فوجداری قانون جرائم کے بارے میں ہے؛ دیوانی قانون تنازعات کے بارے میں۔ تمام مثالیں اس چارٹ میں موجود ہیں۔
برطانیہ میں یہ کام جرم ہیں
یہاں کچھ ایسی باتیں ہیں جن کے بارے میں نئے آنے والوں کو شاید اندازہ نہ ہو کہ وہ خلافِ قانون ہیں:
ہتھیار ساتھ رکھنا: کسی بھی قسم کا ہتھیار ساتھ رکھنا جرم ہے، چاہے آپ کہیں کہ یہ اپنے دفاع کے لیے ہے۔ اس میں بندوقیں، چاقو، اور ہر وہ چیز شامل ہے جو کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے بنائی گئی ہو یا اس مقصد کے لیے بدلی گئی ہو۔
منشیات: منشیات خریدنا یا بیچنا غیر قانونی ہے، جن میں ہیروئن، کوکین، ایکسٹیسی اور بھنگ (cannabis) شامل ہیں۔
نسلی جرائم: کسی شخص کو اس کے مذہب یا نسلی پس منظر کی وجہ سے ہراساں کرنا، ڈرانا یا پریشان کرنا فوجداری جرم ہے۔
تمباکو بیچنا: آپ 18 سال سے کم عمر کے کسی شخص کو تمباکو کی مصنوعات، جیسے سگریٹ، سگار یا خود لپیٹنے والا تمباکو، نہیں بیچ سکتے۔
عوامی جگہوں پر سگریٹ نوشی: تقریباً ہر بند عوامی جگہ پر سگریٹ نوشی منع ہے، اور بورڈ لگے ہوتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ کہاں سگریٹ نہیں پی جا سکتی۔
شراب خریدنا: 18 سال سے کم عمر کسی شخص کو شراب بیچنا، یا اس کے لیے خریدنا، جرم ہے۔ ایک استثنا ہے: 16 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگ کسی ریسٹورنٹ یا ہوٹل میں کھانے کے ساتھ شراب پی سکتے ہیں۔
عوامی جگہ پر شراب پینا: کچھ جگہوں کو شراب سے پاک علاقہ (alcohol-free zone) قرار دیا جاتا ہے، جہاں آپ سڑک پر شراب نہیں پی سکتے۔ پولیس شراب ضبط بھی کر سکتی ہے، یا نوجوانوں کو کسی عوامی جگہ سے چلے جانے کو کہہ سکتی ہے۔ اگر آپ یہ قواعد توڑیں تو آپ پر جرمانہ ہو سکتا ہے یا آپ کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
ظاہر ہے یہ فہرست مکمل نہیں۔ قتل، چوری، مار پیٹ اور وہ تمام کام جو زیادہ تر ملکوں میں جرم ہیں، برطانیہ میں بھی جرم ہیں۔
ان میں سے کچھ قواعد آپ کی سوچ سے زیادہ نئے ہیں۔ بند جگہوں پر سگریٹ نوشی کی پابندی 2006 اور 2007 میں ہی لگی: اسکاٹ لینڈ مارچ 2006 میں سب سے پہلے تھا، اور انگلینڈ جولائی 2007 میں سب سے آخر میں۔ اس سے پہلے دھوئیں سے بھرا پب برطانیہ کے سب سے جانے پہچانے مناظر میں سے ایک تھا۔
یہ دیوانی تنازعات ہیں
رہائش: مالک مکان اور کرایہ دار کے درمیان اختلافات، مثلاً مرمت یا بے دخلی (یعنی گھر خالی کرنے پر مجبور کیا جانا) کے بارے میں۔
صارفین کے حقوق: مثلاً کوئی ایسی چیز خریدنا جو خراب نکلے، یا کوئی ایسی سروس جو ٹھیک سے نہ دی جائے۔
ملازمت: تنخواہ، ناجائز برطرفی، یا کام کی جگہ پر امتیازی سلوک سے متعلق تنازعات۔
قرض: اگر آپ پر کسی کا پیسہ واجب ہو تو وہ آپ کو عدالت لے جا سکتا ہے۔
کوئز
Which TWO of the following are criminal offences in the UK?
سوال اردو میںان میں سے کون سے دو کام برطانیہ میں فوجداری جرم ہیں؟ A: عوامی جگہ پر چاقو ساتھ رکھنا، چاہے وہ صرف اپنے دفاع کے لیے ہو B: مرمت کا خرچ کون دے، اس پر اپنے مالک مکان سے بحث کرنا C: خراب کیتلی خریدنے کے بعد دکان سے اپنے پیسے واپس مانگنا D: 16 سال کے کسی لڑکے یا لڑکی کو سگریٹ بیچنا
ہتھیار ساتھ رکھنا (چاہے آپ کہیں کہ یہ اپنے دفاع کے لیے ہے) اور 18 سال سے کم عمر کسی شخص کو سگریٹ بیچنا، دونوں فوجداری جرائم ہیں۔ B مالک مکان اور کرایہ دار کے درمیان رہائش کا تنازع ہے، اور C صارفین کے حقوق کا معاملہ ہے؛ دونوں دیوانی قانون کے تحت آتے ہیں۔
کوئز
Is the statement below TRUE or FALSE?
A 16-year-old is allowed to have an alcoholic drink alongside a meal when eating in a restaurant or hotel.
سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: 16 سال کے کسی نوجوان کو ریسٹورنٹ یا ہوٹل میں کھانا کھاتے وقت کھانے کے ساتھ شراب پینے کی اجازت ہے۔
درست (TRUE)۔ یہی ایک استثنا ہے۔ اس کے علاوہ 18 سال سے کم عمر کسی شخص کو شراب بیچنا، یا اس کے لیے خریدنا، جرم ہے۔
پولیس: سب کی حفاظت، اور خود بھی قانون کی پابند
برطانیہ میں پولیس کا کام تین حصوں میں بیان کیا جا سکتا ہے:
جان اور مال کی حفاظت
بدامنی روکنا (امن قائم رکھنا)
جرائم کو روکنا اور ان کا سراغ لگانا
برطانیہ میں پولیس بہت سی الگ الگ فورسز میں کام کرتی ہے، اور ہر فورس کا سربراہ ایک چیف کانسٹیبل (Chief Constable) ہوتا ہے۔ پولیس حکومت سے آزاد ہے۔
نومبر 2012 میں انگلینڈ اور ویلز کے لوگوں نے پہلی بار پولیس اینڈ کرائم کمشنرز (Police and Crime Commissioners، PCCs) کو منتخب کرنے کے لیے ووٹ دیے۔ براہِ راست منتخب ہونے والے یہ کمشنر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہیں کہ مقامی پولیس اچھی طرح کام کرے اور کمیونٹی کی ضروریات پوری کرے۔ وہ مقامی پولیسنگ کی ترجیحات اور مقامی پولیسنگ کا بجٹ طے کرتے ہیں، اور چیف کانسٹیبل کا تقرر کرتے ہیں۔
پولیس سب کے لیے ایک عوامی خدمت ہے، چاہے کسی کا پس منظر کچھ بھی ہو اور وہ کہیں بھی رہتا ہو۔ پولیس کو بھی قانون کی پابندی کرنی ہوتی ہے۔ وہ اپنے اختیارات کا غلط استعمال نہیں کر سکتے، جھوٹے بیانات نہیں دے سکتے، بدتمیزی یا بدزبانی نہیں کر سکتے، اور نسلی امتیاز نہیں برت سکتے۔ جو پولیس افسر بدعنوان ہوں یا اپنے اختیار کا غلط استعمال کریں، انہیں سخت سزا دی جاتی ہے۔
پولیس کے ساتھ پولیس کمیونٹی سپورٹ آفیسرز (police community support officers، PCSOs) بھی کام کرتے ہیں۔ ان کا کردار ہر علاقے میں مختلف ہوتا ہے، لیکن عام طور پر وہ سڑکوں پر گشت کرتے ہیں، عوام کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، اور جرائم کی جگہوں اور بڑے پروگراموں پر پولیس کی مدد کرتے ہیں۔
ہر شخص کو جرائم روکنے اور ان کا سراغ لگانے میں پولیس کی جتنی ہو سکے مدد کرنی چاہیے۔ اگر پولیس آپ کو گرفتار کر کے پولیس اسٹیشن لے جائے تو وہ آپ کو وجہ بتائے گی، اور آپ قانونی مشورہ مانگ سکتے ہیں۔
انگلینڈ، ویلز اور اسکاٹ لینڈ میں زیادہ تر پولیس اہلکار بندوق نہیں رکھتے؛ شمالی آئرلینڈ اس سے مستثنیٰ ہے۔ ہنگامی صورت میں آپ 999 پر فون کرتے ہیں، جو 1937 میں لندن میں دنیا کے پہلے ہنگامی فون نمبر کے طور پر شروع ہوا۔ جو معاملات ہنگامی نہ ہوں، ان کے لیے 101 پر فون کریں۔
لندن کی میٹروپولیٹن پولیس (Metropolitan Police) کا روایتی ہیلمٹ، جو برطانوی پولیس افسر کی سب سے جانی پہچانی شکل ہے۔ برطانوی پولیس افسروں کو "بابی" (Bobby) رابرٹ پیل (Robert Peel) کی وجہ سے کہا جاتا ہے، جنہوں نے 1829 میں وزیرِ داخلہ (Home Secretary) کی حیثیت سے لندن کی میٹروپولیٹن پولیس قائم کی؛ "بابی" رابرٹ کا عرفی نام ہے۔ شروع کے دنوں میں انہیں "پیلرز" (peelers) بھی کہا جاتا تھا۔
تصویر: Canley، CC BY-SA 3.0، بذریعہ Wikimedia Commons
پولیس سے ناخوش ہیں؟ آپ شکایت کر سکتے ہیں
جب پولیس سے غلطی ہو تو اسے حل کرنے کے لیے شکایات کا ایک نظام موجود ہے۔ کوئی بھی شخص شکایت کر سکتا ہے، چاہے کسی پولیس اسٹیشن جا کر یا متعلقہ فورس کے چیف کانسٹیبل کو خط بھیج کر۔ برطانیہ کے ہر حصے میں کوئی نہ کوئی آزاد جگہ بھی ہے جہاں آپ جا سکتے ہیں:
انگلینڈ اور ویلز: ایک آزاد ادارہ، جس سے آپ براہِ راست بھی شکایت کر سکتے ہیں۔ اس کی ویب سائٹ (policeconduct.gov.uk) پولیس کے طرزِ عمل کے آزاد دفتر (Independent Office for Police Conduct، IOPC) کی ہے۔
اسکاٹ لینڈ: اگر آپ پہلے ہی شکایت کر چکے ہیں اور اس پر ہونے والی کارروائی سے مطمئن نہیں ہیں تو پولیس تحقیقات اور جائزہ کمشنر (Police Investigations and Review Commissioner، PIRC) سے رجوع کر سکتے ہیں۔
شمالی آئرلینڈ: پولیس محتسب کا دفتر (Police Ombudsman's Office)۔
کوئز
Which TWO of the following are duties of the police in the UK?
سوال اردو میںان میں سے کون سے دو کام برطانیہ میں پولیس کے فرائض ہیں؟ A: مقامی پولیسنگ کا بجٹ طے کرنا B: جان اور مال کی حفاظت کرنا C: جرائم کو روکنا اور ان کا سراغ لگانا D: کسی کو قصوروار قرار دیے جانے کے بعد اس کی سزا کا فیصلہ کرنا
پولیس کے تین فرائض ہیں: جان اور مال کی حفاظت، بدامنی روکنا، اور جرائم کو روکنا اور ان کا سراغ لگانا۔ مقامی پولیسنگ کا بجٹ منتخب پولیس اینڈ کرائم کمشنر (PCC) طے کرتا ہے، اور کسی کو قصوروار قرار دیے جانے کے بعد سزا کا فیصلہ جج یا مجسٹریٹ کرتا ہے۔
کوئز
Since November 2012, voters in England and Wales have elected officials who decide local policing priorities and appoint the Chief Constable. What are these officials called?
سوال اردو میںنومبر 2012 سے انگلینڈ اور ویلز کے ووٹر ایسے عہدیدار منتخب کرتے ہیں جو مقامی پولیسنگ کی ترجیحات طے کرتے ہیں اور چیف کانسٹیبل کا تقرر کرتے ہیں۔ ان عہدیداروں کو کیا کہا جاتا ہے؟
پولیس اینڈ کرائم کمشنرز (PCCs) براہِ راست منتخب ہوتے ہیں۔ جسٹس آف دی پیس (Justices of the Peace، JPs) اسکاٹ لینڈ میں چھوٹے فوجداری مقدمات سنتے ہیں؛ پولیس کمیونٹی سپورٹ آفیسرز (PCSOs) گشت کر کے پولیس کی مدد کرتے ہیں؛ اور شیرف (sheriff) اسکاٹ لینڈ کی شیرف کورٹ میں جج ہوتا ہے۔
کوئز
In Northern Ireland, which independent body can people go to with a complaint about the police?
سوال اردو میںشمالی آئرلینڈ میں لوگ پولیس کے خلاف شکایت لے کر کس آزاد ادارے کے پاس جا سکتے ہیں؟
شمالی آئرلینڈ میں پولیس کے خلاف شکایات پولیس محتسب (Police Ombudsman) کے پاس جاتی ہیں۔ پولیس تحقیقات اور جائزہ کمشنر (Police Investigations and Review Commissioner) اسکاٹ لینڈ کا ادارہ ہے، ان لوگوں کے لیے جو اپنی شکایت پر ہونے والی کارروائی سے مطمئن نہ ہوں۔ شمالی آئرلینڈ کا مساوات کمیشن (Equality Commission for Northern Ireland) امتیازی سلوک کے معاملات دیکھتا ہے، پولیس کے نہیں؛ اور کراؤن کورٹ (Crown Court) سنگین فوجداری مقدمات کی سماعت کرتی ہے۔
دہشت گردی اور انتہا پسندی
برطانیہ کو کئی طرح کے دہشت گرد خطرات کا سامنا ہے۔ سب سے سنگین خطرہ القاعدہ (Al Qa'ida)، اس سے منسلک گروہوں، اور اس جیسے نظریات رکھنے والی تنظیموں سے ہے۔ شمالی آئرلینڈ سے جڑی دہشت گردی بھی موجود ہے۔
تمام دہشت گرد گروہ لوگوں کو انتہا پسند بنانے (یعنی انہیں انتہا پسند خیالات کی طرف لے جانے) اور پھر انہیں بھرتی کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اگرچہ ان کے طریقے، جگہیں اور پیمانہ مختلف ہوتے ہیں۔ شواہد بتاتے ہیں کہ ان گروہوں کو عوام کی بہت کم حمایت حاصل ہے۔ اس کے باوجود برطانیہ میں بسنے کا ارادہ رکھنے والوں کو اس خطرے کے بارے میں جاننا چاہیے۔
ہر شہری کو خود کو محفوظ محسوس کرنا چاہیے، اور اس میں ہر قسم کی انتہا پسندی سے محفوظ رہنا بھی شامل ہے۔ انتہا پسندی (Extremism) کا مطلب ہے برطانیہ کی بنیادی اقدار کے خلاف بولنا یا عمل کرنا۔ اس میں مذہبی انتہا پسندی اور انتہائی دائیں بازو کی انتہا پسندی دونوں شامل ہیں۔
اگر آپ کو لگے کہ کوئی آپ کو کسی انتہا پسند یا دہشت گرد گروہ کی طرف کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے تو اپنی مقامی پولیس کو بتائیں۔
کوئز
Which of the following statements is correct?
سوال اردو میںان میں سے کون سا بیان درست ہے؟ A: برطانیہ میں دہشت گرد گروہوں کو زیادہ تر عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ B: اگر آپ کو لگے کہ کوئی آپ کو کسی انتہا پسند مقصد کی طرف کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے تو آپ کو مقامی پولیس کو بتانا چاہیے۔
دہشت گرد گروہوں کو عوام کی بہت کم حمایت حاصل ہے۔ اگر کوئی آپ کو کسی انتہا پسند یا دہشت گرد گروہ کی طرف کھینچنے کی کوشش کرے تو مقامی پولیس کو بتائیں۔
جج: حکومت بھی مداخلت نہیں کر سکتی
تمام جج مل کر عدلیہ (the judiciary) کہلاتے ہیں۔ ان کا کام قانون کی تشریح کرنا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ مقدمات کی سماعت منصفانہ ہو، اور حکومت ان کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
ججوں کے پاس کتنا اختیار ہے؟
اگر کوئی دعویٰ کرے کہ حکومت نے غیر قانونی کام کیا ہے، اور جج اس سے متفق ہوں، تو حکومت کو یا تو اپنی پالیسی بدلنی ہوگی یا پارلیمنٹ سے قانون بدلنے کو کہنا ہوگا۔
اگر جج فیصلہ کریں کہ کسی سرکاری ادارے نے کسی شخص کے قانونی حقوق کا احترام نہیں کیا، تو وہ اسے اپنا طرزِ عمل بدلنے، یا ہرجانہ ادا کرنے، یا دونوں کا حکم دے سکتے ہیں۔
جج لوگوں یا اداروں کے درمیان تنازعات بھی نمٹاتے ہیں، مثلاً معاہدوں، جائیداد، ملازمت کے حقوق، یا کسی حادثے کے بعد کے معاملات کے بارے میں۔
ایک کام برطانوی جج کبھی نہیں کرتے: ہتھوڑا بجانا۔ امریکی ٹی وی ڈراموں میں جج ہمیشہ لکڑی کا ایک چھوٹا ہتھوڑا، جسے گیول (gavel) کہتے ہیں، زور سے بجاتا ہے، لیکن انگلینڈ اور ویلز کی عدالتوں میں گیول ہوتے ہی نہیں۔ حقائق کی جانچ کرنے والی فلاحی تنظیم فل فیکٹ (Full Fact) نے 2014 میں اس عام غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ایک مضمون بھی لکھا تھا۔ برطانوی عدالتوں کی مشہور پہچان وِگ اور گاؤن ہیں۔
کوئز
Which of the following statements is correct?
سوال اردو میںان میں سے کون سا بیان درست ہے؟ A: اگر جج فیصلہ دیں کہ حکومت کا کوئی اقدام غیر قانونی ہے تو وزیروں کو اپنی پالیسی بدلنی پڑتی ہے یا پارلیمنٹ سے قانون میں ترمیم کروانی پڑتی ہے۔ B: حکومتی وزرا جب بھی کسی عدالتی فیصلے سے متفق نہ ہوں، اسے رد کر سکتے ہیں۔
جج آزاد ہیں: حکومت ان کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ اگر جج یہ قرار دیں کہ حکومت نے غیر قانونی کام کیا ہے تو حکومت صرف اپنی پالیسی بدل سکتی ہے یا پارلیمنٹ سے قانون بدلنے کو کہہ سکتی ہے۔
فوجداری عدالتیں: ساتھ ساتھ چلنے والے تین نظام
برطانیہ میں ایک نہیں بلکہ تین عدالتی نظام ہیں: ایک انگلینڈ اور ویلز کے لیے، ایک اسکاٹ لینڈ کے لیے اور ایک شمالی آئرلینڈ کے لیے۔ یہ کم و بیش ایک ہی طرح کام کرتے ہیں، لیکن نام اور تفصیلات مختلف ہیں۔ امتحان میں ان فرقوں کے بارے میں اکثر سوال آتے ہیں، اس لیے پوری تصویر دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے چارٹ سے شروع کریں۔
تینوں عدالتی نظام ایک نظر میں۔ سرمئی خانے انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں مشترک ہیں؛ سرخ خانے صرف اسکاٹ لینڈ میں ہیں۔
چھوٹے مقدمات: مجسٹریٹوں کے حوالے
انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں زیادہ تر چھوٹے فوجداری مقدمات مجسٹریٹس کورٹ (Magistrates' Court) میں جاتے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ میں چھوٹے فوجداری مقدمات جسٹس آف دی پیس کورٹ (Justice of the Peace Court) میں جاتے ہیں۔
مجسٹریٹ (magistrate)، یا اسکاٹ لینڈ میں جسٹس آف دی پیس (Justice of the Peace، JP)، ایک عام مقامی رہائشی ہوتا ہے۔ انگلینڈ، ویلز اور اسکاٹ لینڈ میں مجسٹریٹوں اور JPs کو عام طور پر کوئی تنخواہ نہیں ملتی، اور انہیں کسی قانونی اہلیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انہیں تربیت دی جاتی ہے، اور عدالت میں ایک قانونی مشیر ان کی مدد کرتا ہے۔ وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ملزم قصوروار ہے یا نہیں، اور اگر ہے تو اسے کیا سزا ملنی چاہیے۔
شمالی آئرلینڈ میں طریقہ مختلف ہے۔ وہاں مقدمہ ایک ڈسٹرکٹ جج (District Judge) یا ڈپٹی ڈسٹرکٹ جج (Deputy District Judge) سنتا ہے۔ ان ججوں کو تنخواہ ملتی ہے، اور ان کے پاس قانونی اہلیت ہوتی ہے۔
زیادہ تر فوجداری انصاف دراصل یہیں ہوتا ہے۔ انگلینڈ اور ویلز کی عدلیہ کی ویب سائٹ کے مطابق تقریباً ہر فوجداری مقدمہ مجسٹریٹس کورٹ سے شروع ہوتا ہے، اور تقریباً 95% وہیں ختم بھی ہو جاتے ہیں۔ بارہ جیوری ارکان والا، ٹی وی ڈراموں جیسا بڑا مقدمہ دراصل کافی کم ہوتا ہے۔
کوئز
In Scotland, which court hears minor criminal offences?
سوال اردو میںاسکاٹ لینڈ میں چھوٹے فوجداری جرائم کی سماعت کون سی عدالت کرتی ہے؟
اسکاٹ لینڈ میں چھوٹے فوجداری مقدمات جسٹس آف دی پیس کورٹ (Justice of the Peace Court) میں جاتے ہیں۔ مجسٹریٹس کورٹ (Magistrates' Court) انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے لیے ہے؛ کراؤن کورٹ (Crown Court) سنگین فوجداری مقدمات کی سماعت کرتی ہے؛ اور کاؤنٹی کورٹ (County Court) ایک دیوانی عدالت ہے۔
سنگین مقدمات: یہاں جیوری آتی ہے
انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں سنگین فوجداری مقدمات کی سماعت کراؤن کورٹ (Crown Court) میں ایک جج اور ایک جیوری کرتے ہیں۔
اسکاٹ لینڈ میں سنگین مقدمات شیرف کورٹ (Sheriff Court) میں جاتے ہیں، جہاں سماعت یا تو اکیلا شیرف (sheriff، یعنی جج) کرتا ہے یا شیرف اور جیوری مل کر۔ سب سے سنگین مقدمات، جیسے قتل، ہائی کورٹ آف جسٹیشیری (High Court of Justiciary) میں جاتے ہیں (اسے اکثر صرف ہائی کورٹ کہا جاتا ہے)، جہاں ان کی سماعت ایک جج اور جیوری کرتے ہیں۔
لندن کی مرکزی فوجداری عدالت (Central Criminal Court)، جسے اولڈ بیلی (Old Bailey) کہا جاتا ہے۔ گنبد کے اوپر لیڈی جسٹس (Lady Justice) کے دائیں ہاتھ میں تلوار اور بائیں ہاتھ میں ترازو ہے۔ لیڈی جسٹس کے بہت سے مجسموں کے برعکس، بیسویں صدی کے اوائل میں بنائے گئے اس سنہرے مجسمے کی آنکھوں پر کوئی پٹی نہیں۔ نیچے کی عدالت میں بہت سے مشہور مقدمات چل چکے ہیں۔
تصویر: Philip Halling / Geograph، CC BY-SA 2.0، بذریعہ Wikimedia Commons
جیوری (jury) عام لوگوں کا ایک گروپ ہوتا ہے، جنہیں مقامی انتخابی فہرست (electoral register، یعنی ووٹروں کی فہرست) سے قرعہ اندازی کے ذریعے چنا جاتا ہے:
انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ: 12 لوگ
اسکاٹ لینڈ: 15 لوگ
اگر آپ کو سمن (summons، یعنی بلانے کا سرکاری خط) ملے تو آپ کو جیوری میں خدمت انجام دینی ہوگی، الا یہ کہ آپ اس کے اہل نہ ہوں (مثلاً اس لیے کہ آپ کا مجرمانہ ریکارڈ ہے) یا آپ کے پاس معذرت کی کوئی معقول وجہ ہو (مثلاً بیماری)۔ جیوری کے ارکان عدالت میں شواہد سنتے ہیں اور پھر "قصوروار" (guilty) یا "بے قصور" (not guilty) کا فیصلہ (verdict) دیتے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ میں ایک تیسرا ممکنہ فیصلہ بھی ہے: "جرم ثابت نہیں ہوا" (not proven)۔ اگر جیوری کسی کو قصوروار قرار دے تو سزا کا فیصلہ جج کرتا ہے، جیوری نہیں۔
کس کو چنا جا سکتا ہے، اور کس عمر میں آپ جیوری میں شامل ہو سکتے ہیں، یہ اگلے باب کمیونٹی میں آپ کا کردار میں بیان کیا گیا ہے۔
ایڈنبرا میں رائل مائل (Royal Mile) کے کنارے جسٹیشیری بلڈنگ (Justiciary Building)، جہاں اسکاٹ لینڈ کی ہائی کورٹ آف جسٹیشیری بیٹھتی ہے۔ جب یہ عمارت 1937 میں مکمل ہوئی تو یہ شیرف کورٹ تھی؛ 1990 کی دہائی کے اوائل میں اسے ہائی کورٹ کے حوالے کر دیا گیا۔
تصویر: Enric، CC BY-SA 4.0، بذریعہ Wikimedia Commons
کوئز
Which TWO statements about juries are correct?
سوال اردو میںجیوری کے بارے میں کون سے دو بیانات درست ہیں؟ A: انگلینڈ میں جیوری کے 15 ارکان ہوتے ہیں۔ B: اسکاٹ لینڈ میں جیوری کے 15 ارکان ہوتے ہیں۔ C: اگر ملزم قصوروار قرار پائے تو سزا جیوری طے کرتی ہے۔ D: جیوری کے ارکان مقامی انتخابی فہرست سے قرعہ اندازی کے ذریعے چنے جاتے ہیں۔
انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں جیوری کے 12 ارکان ہوتے ہیں؛ اسکاٹ لینڈ میں 15۔ جیوری صرف یہ فیصلہ کرتی ہے کہ ملزم قصوروار ہے یا نہیں: سزا جج طے کرتا ہے۔
یوتھ کورٹس (نوعمروں کی عدالتیں)
انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں 10 تا 17 سال کے ملزموں کے مقدمات عام طور پر یوتھ کورٹ (Youth Court) میں سنے جاتے ہیں۔ اسے زیادہ سے زیادہ تین خصوصی تربیت یافتہ مجسٹریٹ، یا ایک ڈسٹرکٹ جج چلاتے ہیں۔ سب سے سنگین مقدمات پھر بھی کراؤن کورٹ میں جاتے ہیں۔
یوتھ کورٹس کے کچھ خاص قواعد ہیں:
نوجوان کے والدین یا سرپرستوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ موجود ہوں۔
عام لوگوں کو اندر آنے کی اجازت نہیں۔
اخبارات اور دوسرے ذرائع ابلاغ نوجوان کا نام یا تصویر شائع نہیں کر سکتے۔
اسکاٹ لینڈ میں قانون توڑنے والے بچوں اور نوجوانوں کے لیے چلڈرنز ہیئرنگز سسٹم (Children's Hearings System) استعمال ہوتا ہے۔ شمالی آئرلینڈ میں جرم کرنے والے نوجوانوں کے ساتھ کیا کیا جائے، یہ طے کرنے کے لیے یوتھ کانفرنسنگ (youth conferencing) کا نظام ہے۔
یوتھ کورٹس 10 سال کی عمر سے اس لیے شروع ہوتی ہیں کہ انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں فوجداری ذمہ داری کی عمر 10 سال ہے۔
کوئز
Is the statement below TRUE or FALSE?
Anyone from the public can sit in a Youth Court and newspapers may print the young defendant's name.
سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: عام لوگوں میں سے کوئی بھی یوتھ کورٹ میں بیٹھ سکتا ہے، اور اخبارات کم عمر ملزم کا نام چھاپ سکتے ہیں۔
غلط (FALSE)۔ یوتھ کورٹس عام لوگوں کے لیے بند ہوتی ہیں، اور ذرائع ابلاغ کم عمر ملزم کا نام یا تصویر شائع نہیں کر سکتے۔ وہاں جن لوگوں کو موجود ہونا چاہیے وہ بچے کے والدین یا سرپرست ہیں۔
دیوانی عدالتیں اور چھوٹے دعوے
دیوانی مقدمات کی اپنی عدالتیں ہیں:
کاؤنٹی کورٹ (County Court) کئی طرح کے دیوانی تنازعات نمٹاتی ہے، جیسے واجب الادا رقم کی واپسی، ذاتی چوٹ (personal injury)، خاندانی معاملات، معاہدوں کی خلاف ورزی اور طلاق۔ اسکاٹ لینڈ میں ایسے زیادہ تر مقدمات شیرف کورٹ (Sheriff Court) میں نمٹائے جاتے ہیں۔
انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں بڑے دیوانی مقدمات، مثلاً جن میں بھاری ہرجانے کا دعویٰ ہو، ہائی کورٹ (High Court) میں جاتے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ میں اس کے برابر کی عدالت ایڈنبرا کی کورٹ آف سیشن (Court of Session) ہے۔
لندن میں اسٹرینڈ (Strand) پر واقع رائل کورٹس آف جسٹس (Royal Courts of Justice)، جہاں انگلینڈ اور ویلز کی ہائی کورٹ بیٹھتی ہے۔
تصویر: David Castor، CC0، بذریعہ Wikimedia Commons
چھوٹے دعوے: میز کے گرد بیٹھ کر معاملہ نمٹانا
چھوٹے دعووں کا طریقۂ کار (small claims procedure) چھوٹے تنازعات کو وکیل پر بہت سا پیسہ اور وقت خرچ کیے بغیر نمٹانے کا ایک غیر رسمی طریقہ ہے۔
حدیں: انگلینڈ اور ویلز میں £10,000 سے کم کے دعوے؛ اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں £3,000 سے کم کے دعوے۔
جج مقدمہ ایک عام کمرے میں سنتا ہے، اور سب لوگ ایک میز کے گرد بیٹھتے ہیں۔
آپ منی کلیمز آن لائن (Money Claims Online) کے ذریعے آن لائن بھی دعویٰ دائر کر سکتے ہیں۔
مزید تفصیلات کے لیے اپنی مقامی کاؤنٹی کورٹ یا شیرف کورٹ سے پوچھیں۔ انگلینڈ اور ویلز کے لیے معلومات برطانوی حکومت کی ویب سائٹ (GOV.UK) پر ہیں؛ اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کی اپنی اپنی عدالتی ویب سائٹیں ہیں۔
کوئز
Which TWO statements about civil cases are correct?
سوال اردو میںدیوانی مقدمات کے بارے میں کون سے دو بیانات درست ہیں؟ A: اسکاٹ لینڈ میں سنگین دیوانی مقدمات کی سماعت ایڈنبرا کی کورٹ آف سیشن میں ہوتی ہے۔ B: اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں چھوٹے دعووں کا طریقۂ کار £10,000 تک کے دعووں کے لیے ہے۔ C: چھوٹے دعووں کا طریقۂ کار وکیل کے خرچ کے بغیر چھوٹے تنازعات حل کرنے کا ایک غیر رسمی طریقہ ہے۔ D: طلاق کے مقدمات یوتھ کورٹ میں نمٹائے جاتے ہیں۔
اسکاٹ لینڈ میں سنگین دیوانی مقدمات ایڈنبرا کی کورٹ آف سیشن میں جاتے ہیں۔ چھوٹے دعوے غیر رسمی ہوتے ہیں: جج انہیں ایک عام کمرے میں سنتا ہے، اور فریقین میز کے گرد بیٹھتے ہیں۔ £10,000 کی حد انگلینڈ اور ویلز کے لیے ہے؛ اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں یہ حد £3,000 ہے۔ طلاق ایک دیوانی معاملہ ہے جو کاؤنٹی کورٹ میں جاتا ہے؛ یوتھ کورٹ 10 تا 17 سال کے نوجوانوں کے خلاف فوجداری مقدمات سنتی ہے۔
وکیل کی خدمات لینا: سولیسٹر
سولیسٹر (solicitor) ایک تربیت یافتہ وکیل ہوتا ہے جو قانونی مشورہ دیتا ہے، اپنے مؤکلوں کی طرف سے قانونی کارروائی کرتا ہے اور عدالت میں ان کی طرف سے بول سکتا ہے۔ پورے برطانیہ میں سولیسٹرز کے دفاتر موجود ہیں۔
سولیسٹر تلاش کرتے وقت:
پہلے یہ دیکھیں کہ وہ قانون کے کن شعبوں کے ماہر ہیں، اور کیا انہوں نے آپ جیسے مقدمات پہلے نمٹائے ہیں۔
بہت سے سولیسٹر مقامی اخبارات میں اشتہار دیتے ہیں۔
فلاحی ادارہ سٹیزنز ایڈوائس (Citizens Advice) آپ کو مقامی سولیسٹرز کے نام اور ان کے کام کے شعبے بتا سکتا ہے۔ آپ سولیسٹرز کی پیشہ ورانہ تنظیموں سے بھی پوچھ سکتے ہیں: انگلینڈ اور ویلز کے لیے لا سوسائٹی (Law Society)، لا سوسائٹی آف اسکاٹ لینڈ (Law Society of Scotland)، اور لا سوسائٹی آف ناردرن آئرلینڈ (Law Society of Northern Ireland)۔
فیس عام طور پر آپ کے مقدمے پر لگنے والے وقت کی بنیاد پر ہوتی ہے، اس لیے بالکل شروع میں ہی پوچھ لیں کہ اندازاً کتنا خرچ آئے گا۔
کوئز
Is the statement below TRUE or FALSE?
A solicitor's fees usually depend on how many hours they work on your case, so you should ask about the likely cost at the beginning.
سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: سولیسٹر کی فیس عام طور پر اس پر منحصر ہوتی ہے کہ وہ آپ کے مقدمے پر کتنے گھنٹے کام کرتا ہے، اس لیے آپ کو شروع ہی میں متوقع خرچ کے بارے میں پوچھ لینا چاہیے۔
درست (TRUE)۔ سولیسٹر عام طور پر اپنے لگائے ہوئے وقت کے حساب سے فیس لیتے ہیں، اس لیے آپ کو شروع ہی میں متوقع خرچ معلوم کر لینا چاہیے۔ ایک عام غلط آپشن یہ کہتا ہے کہ فیس اس پر منحصر ہے کہ مقدمہ کتنا اہم ہے۔
باب کا خلاصہ
فوجداری بمقابلہ دیوانی قانون
فوجداری قانون جرائم سے متعلق ہے (تفتیش پولیس کرتی ہے، سزا عدالتیں دیتی ہیں)؛ دیوانی قانون لوگوں یا گروہوں کے درمیان تنازعات نمٹاتا ہے
ہتھیار
کوئی بھی ہتھیار ساتھ رکھنا غیر قانونی ہے، اپنے دفاع کے لیے بھی
18 سال سے کم عمر
انہیں تمباکو یا شراب نہیں بیچی جا سکتی، اور کوئی ان کے لیے شراب نہیں خرید سکتا؛ 16 سال یا زیادہ عمر کے لوگ ریسٹورنٹ یا ہوٹل میں کھانے کے ساتھ شراب پی سکتے ہیں
پولیس کے فرائض
جان اور مال کی حفاظت، بدامنی روکنا (امن قائم رکھنا)، جرائم کو روکنا اور ان کا سراغ لگانا
PCCs (نومبر 2012)
پولیس اینڈ کرائم کمشنرز: انگلینڈ اور ویلز میں منتخب ہوتے ہیں؛ پولیسنگ کی ترجیحات اور بجٹ طے کرتے ہیں؛ چیف کانسٹیبل کا تقرر کرتے ہیں
PCSOs
پولیس کمیونٹی سپورٹ آفیسرز: گشت کرتے ہیں، عوام کے ساتھ کام کرتے ہیں، پولیس کی مدد کرتے ہیں
پولیس کے خلاف شکایت
پولیس اسٹیشن یا چیف کانسٹیبل؛ آزاد ادارے: policeconduct.gov.uk (انگلینڈ اور ویلز)، پولیس تحقیقات اور جائزہ کمشنر (اسکاٹ لینڈ، اگر شکایت پر کارروائی سے مطمئن نہ ہوں)، پولیس محتسب (شمالی آئرلینڈ)
دہشت گردی
سب سے سنگین خطرہ: القاعدہ؛ شمالی آئرلینڈ سے جڑی دہشت گردی بھی۔ اگر کوئی آپ کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کرے تو مقامی پولیس کو بتائیں
عدلیہ (Judiciary)
قانون کی تشریح کرتی ہے اور منصفانہ سماعت یقینی بناتی ہے، حکومت کی مداخلت سے آزاد؛ اگر جج قرار دیں کہ حکومت نے غیر قانونی کام کیا ہے تو اسے پالیسی بدلنی ہوگی یا پارلیمنٹ سے قانون بدلنے کو کہنا ہوگا
چھوٹے جرائم
مجسٹریٹس کورٹ (انگلینڈ، ویلز، شمالی آئرلینڈ)؛ جسٹس آف دی پیس کورٹ (اسکاٹ لینڈ)۔ مجسٹریٹوں کو تنخواہ نہیں ملتی اور ان کے پاس قانونی اہلیت نہیں ہوتی؛ شمالی آئرلینڈ میں تنخواہ دار ڈسٹرکٹ جج
سنگین جرائم
کراؤن کورٹ، جیوری کے ساتھ؛ اسکاٹ لینڈ میں شیرف کورٹ، اور سب سے سنگین (قتل) ہائی کورٹ میں
جیوری (Jury)
انتخابی فہرست سے قرعہ اندازی کے ذریعے؛ 12 لوگ، اسکاٹ لینڈ میں 15؛ اسکاٹ لینڈ میں "not proven" بھی؛ سزا جج طے کرتا ہے
یوتھ کورٹ (Youth Court)
عمر 10 تا 17 سال؛ زیادہ سے زیادہ تین مجسٹریٹ یا ایک ڈسٹرکٹ جج؛ عام لوگ نہیں آ سکتے، نام شائع نہیں ہوتے۔ اسکاٹ لینڈ: چلڈرنز ہیئرنگز سسٹم