29 جولائی 1948 کو لندن کے ویمبلے اسٹیڈیم (Wembley Stadium) میں دوسری عالمی جنگ کے بعد کے پہلے اولمپک کھیلوں کی افتتاحی تقریب جاری تھی۔ اسی دن لندن کے شمال مغرب میں ایک ہسپتال کے سبزہ زار پر وہیل چیئر پر بیٹھے ایک درجن سے زیادہ سابق فوجی تیر اندازی کے ایک مقابلے میں اپنی کمانیں کھینچ رہے تھے۔
یہی چھوٹا سا، خاموش مقابلہ آگے چل کر آج کے پیرالمپک کھیل بنا۔ فٹ بال، کرکٹ، ٹینس اور گالف سب نے برطانیہ میں اپنی شکل پائی، اور پیرالمپکس کی شروعات بھی یہیں ہوئی۔ یہ باب ہینڈ بک کے باب 4 کے حصے "کھیل" (Sport) کا احاطہ کرتا ہے: لندن کے تین اولمپک کھیل، 16 مشہور کھلاڑی جنہیں آپ کو پہچاننا چاہیے، اور ہر اس کھیل کے بڑے مقابلے اور میدان جس کے لیے برطانیہ مشہور ہے۔
برطانیہ میں پیدا ہونے والے کھیل، اور دو بڑے اسٹیڈیم
بہت سے برطانوی لوگوں کی زندگی میں کھیل کی بڑی اہمیت ہے۔ کئی کھیل جو آج پوری دنیا میں کھیلے جاتے ہیں، پہلی بار برطانیہ میں اپنی جدید شکل میں آئے: کرکٹ (cricket)، فٹ بال (football)، لان ٹینس (lawn tennis)، گالف (golf) اور رگبی (rugby)۔
بڑے میچ اور مقابلے اکثر بڑے اسٹیڈیموں میں ہوتے ہیں۔ ان میں دو سب سے مشہور ہیں: لندن کا ویمبلے اسٹیڈیم (Wembley Stadium) اور ویلز کے دارالحکومت کارڈف (Cardiff) کا پرنسپیلٹی اسٹیڈیم (Principality Stadium)۔ اگر آپ خود کھیلنا چاہیں تو مقامی کونسلیں اور نجی کمپنیاں ہر طرح کی جگہیں چلاتی ہیں: سوئمنگ پول، جم، ٹینس کورٹ، فٹ بال کے میدان، اور یہاں تک کہ ڈرائی اسکی سلوپ (dry ski slopes)، یعنی مصنوعی سطح والی ڈھلانیں جن پر برف کے بغیر اسکیئنگ کی جا سکتی ہے۔
آج کا ویمبلے اسٹیڈیم 2007 میں 1923 والے پرانے اسٹیڈیم کی جگہ کھلا، اور اس میں تقریباً 90,000 نشستیں ہیں۔ اس کی چھت کے اوپر سفید محراب 134 میٹر اونچی ہے اور لندن کے کئی حصوں سے نظر آتی ہے۔ اس کے ڈیزائنرز میں سے ایک ماہرِ تعمیرات نارمن فوسٹر (Norman Foster) تھے، جن کا ذکر اگلے باب "فنون اور ثقافت" میں پھر آئے گا۔
اس باب میں آنے والے کھیلوں کے مقامات۔ رنگ جگہ کی قسم بتاتے ہیں: نیلا اسٹیڈیم اور اولمپکس کے لیے، گہرا سرخ گھڑ دوڑ کے لیے، سبز ٹینس اور گالف کے لیے، سنہری پانی کے کھیلوں اور اسکیئنگ کے لیے، اور نارنجی سرخ پیرالمپکس کی جائے پیدائش کے لیے۔
کوئز
Which TWO of these sports began in Britain?
سوال اردو میںان میں سے کون سے دو کھیل برطانیہ میں شروع ہوئے؟
باسکٹ بال اور والی بال دونوں 19ویں صدی کے آخر میں امریکہ میں ایجاد ہوئے۔ برطانیہ میں شروع ہونے والے جن پانچ کھیلوں کو یاد رکھنا ہے، وہ یہ ہیں: کرکٹ، فٹ بال، لان ٹینس، گالف اور رگبی۔
لندن نے تین بار اولمپکس کی میزبانی کی
برطانیہ نے تین بار اولمپک کھیلوں کی میزبانی کی ہے، 1908، 1948 اور 2012 میں، اور ہر بار لندن میں۔ 2012 کے کھیلوں کا مرکزی مقام مشرقی لندن میں اسٹریٹفورڈ (Stratford) تھا۔ برطانوی ٹیم نے بہت سے مختلف کھیلوں میں اچھی کارکردگی دکھائی اور تمغوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر رہی۔ اسی سال لندن میں پیرالمپک کھیل (Paralympic Games) بھی ہوئے۔
1948 کے کھیلوں کو "آسٹیریٹی گیمز" (Austerity Games) کہا گیا۔ برطانیہ ابھی ابھی جنگ سے نکلا تھا، اور کھانا اور پیٹرول اب بھی راشن پر ملتے تھے۔ کوئی نیا میدان نہیں بنایا گیا اور نہ ہی کوئی اولمپک ولیج تھا: مرد کھلاڑی فضائیہ اور فوج کے کیمپوں میں ٹھہرے، اور خواتین لندن کے کالجوں کے ہاسٹلوں میں۔
1908لندن پہلی بار اولمپکس کی میزبانی کرتا ہے۔ میزبانی روم (Rome) کو کرنی تھی، لیکن اٹلی پیچھے ہٹ گیا اور لندن نے یہ ذمہ داری سنبھال لی
1948لندن دوسری بار میزبانی کرتا ہے: دوسری عالمی جنگ کے بعد کے پہلے اولمپکس، جنہیں "آسٹیریٹی گیمز" (Austerity Games)، یعنی تنگی کے دور کے کھیل، کہا جاتا ہے
194829 جولائی کو، جس دن اولمپکس شروع ہوئے، ڈاکٹر گٹمین اسٹوک مینڈیول ہسپتال میں وہیل چیئر استعمال کرنے والے مریضوں کا پہلا کھیلوں کا مقابلہ کرواتے ہیں
1960پہلے باضابطہ پیرالمپک کھیل روم میں ہوتے ہیں
2012لندن تیسری بار میزبانی کرتا ہے، اور مرکزی مقام مشرقی لندن کا اسٹریٹفورڈ ہے؛ برطانیہ تمغوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آتا ہے، اور پیرالمپکس بھی لندن ہی میں ہوتے ہیں
1908 کے لندن اولمپکس میں میراتھن کا اختتام: اطالوی کھلاڑی دوراندو پیئتری (Dorando Pietri)، جو تھکن سے گرنے کے قریب ہیں، کو منتظمین سہارا دے کر فنش لائن پار کروا رہے ہیں۔ وہ اسٹیڈیم میں سب سے پہلے پہنچے لیکن کئی بار گرے، اور مدد لینے کی وجہ سے نااہل قرار دے دیے گئے؛ ملکہ الیگزینڈرا (Queen Alexandra) کو ان پر اتنا ترس آیا کہ اگلے دن انہوں نے انہیں چاندی کا ایک سنہری ملمع والا کپ دیا۔ یہ دوڑ ونڈسر کاسل (Windsor Castle) سے شروع ہوئی تھی، اور شاہی خاندان کی سہولت کے لیے آغاز اور اختتام کی جگہیں بدلنے سے اس کی لمبائی 26 میل 385 گز، یعنی 42.195 کلومیٹر، بن گئی۔ یہی عجیب سا فاصلہ بعد میں پوری دنیا میں میراتھن کی معیاری لمبائی بن گیا۔
فوٹوگرافر نامعلوم، public domain، بذریعہ Wikimedia Commonsاپریل 2012 میں مشرقی لندن کے اسٹریٹفورڈ میں لندن اولمپک پارک، افتتاحی تقریب سے تین مہینے اور کچھ دن پہلے۔
تصویر: EG Focus، CC BY 2.0، بذریعہ Wikimedia Commons
پیرالمپکس کہاں سے شروع ہوئے: اسٹوک مینڈیول ہسپتال
پیرالمپکس ڈاکٹر سر لڈوگ گٹمین (Dr Sir Ludwig Guttmann) کے کام سے نکلے۔ وہ جرمنی سے جان بچا کر آئے ہوئے ایک پناہ گزین تھے، اور بکنگھم شائر (Buckinghamshire) کے اسٹوک مینڈیول (Stoke Mandeville) ہسپتال میں ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ والے مریضوں کا علاج کرتے تھے۔
اس زمانے میں ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ والے لوگوں سے اکثر یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ بستر پر پڑے رہیں اور بس موت کا انتظار کریں۔ گٹمین نے ان کے علاج کے نئے طریقے نکالے، اور اپنے مریضوں کو ورزش کرنے اور کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لینے پر آمادہ کیا۔ اس باب کے شروع والا 1948 کا تیر اندازی کا مقابلہ انہی کا کروایا ہوا ایک مقابلہ تھا۔
کوئز
In which years did the Olympic Games take place in the UK?
سوال اردو میںبرطانیہ میں اولمپک کھیل کن سالوں میں ہوئے؟
تینوں بار لندن میں: 1908، 1948 اور 2012۔ 1896 کے اولمپکس ایتھنز میں ہوئے (پہلے جدید اولمپکس)، 1936 کے برلن میں، 2008 کے بیجنگ میں اور 1924 کے پیرس میں۔
کوئز
Which of the following statements is correct?
سوال اردو میںان میں سے کون سا بیان درست ہے؟ A: پیرالمپک کھیل 2012 میں شروع ہوئے، جب لندن نے پہلی بار ان کی میزبانی کی۔ B: پیرالمپکس کی جڑیں اسٹوک مینڈیول میں ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ والے مریضوں کے ساتھ ڈاکٹر لڈوگ گٹمین کے کام میں ہیں۔
پیرالمپکس بکنگھم شائر کے اسٹوک مینڈیول ہسپتال میں ڈاکٹر گٹمین کے کام سے شروع ہوئے۔ لندن نے 2012 میں پیرالمپکس کی میزبانی ضرور کی، لیکن وہ پہلے پیرالمپکس نہیں تھے۔
کھیلوں کے 16 ستارے جنہیں جاننا ضروری ہے
کل 16 مشہور برطانوی کھلاڑی ہیں جنہیں پہچاننا ضروری ہے (آئس ڈانسنگ کی جوڑی ٹوروِل اور ڈین کو ایک گن کر)۔ امتحان یہ پوچھنا پسند کرتا ہے کہ کس نے کس کھیل میں کیا کیا، اور اکثر غلط جوابوں میں اسی کھیل کے لوگوں کو رکھتا ہے: مثلاً دو سائیکل سوار، یا وہیل چیئر میراتھن کے دو فاتح۔ پہلے نیچے دیے گئے کارڈز سے ان کا تعارف حاصل کریں؛ پوری تفصیل ان کے بعد والے اہم نکات کے خانے میں ہے۔
راجر بینسٹر (Roger Bannister) دوڑ 1954: ایک میل 4 منٹ سے کم میں دوڑنے والے پہلے شخص
کیلی ہومز (Kelly Holmes) دوڑ 2004 میں دوڑ کے دو اولمپک طلائی تمغے
مو فرح (Mo Farah) دوڑ صومالیہ میں پیدا ہوئے؛ 2012 اور 2016 میں 5,000 میٹر اور 10,000 میٹر کے طلائی تمغے
جیسیکا اینس ہل (Jessica Ennis-Hill) ایتھلیٹکس ہیپٹاتھلون: 2012 میں اولمپک طلائی، 2016 میں چاندی کا تمغہ
ٹینی گرے تھامسن (Tanni Grey-Thompson) وہیل چیئر ریس پیرالمپکس کے 11 طلائی تمغے؛ 6 بار لندن میراتھن کی فاتح
ڈیوڈ ویئر (David Weir) وہیل چیئر ریس دو پیرالمپکس میں 6 طلائی تمغے؛ 6 بار لندن میراتھن کے فاتح
ایلی سمنڈز (Ellie Simmonds) تیراکی تین پیرالمپکس میں طلائی تمغے؛ 2008 کی برطانوی ٹیم کی سب سے کم عمر رکن
کرس ہوئے (Chris Hoy) سائیکلنگ اسکاٹ لینڈ سے؛ 6 اولمپک طلائی اور 1 چاندی کا تمغہ
بریڈلی وگنز (Bradley Wiggins) سائیکلنگ 2012: ٹور ڈی فرانس جیتنے والے پہلے برطانوی؛ 8 اولمپک تمغے
اسٹیو ریڈگریو (Steve Redgrave) روئنگ (چپو والی کشتی) لگاتار پانچ اولمپکس میں طلائی تمغے
ایلن میک آرتھر (Ellen MacArthur) بادبانی کشتی رانی 2004: اکیلے دنیا کے گرد سب سے تیز سفر
بوبی مور (Bobby Moore) فٹ بال 1966 کا ورلڈ کپ جیتنے والی انگلینڈ ٹیم کے کپتان
آئن بوتھم (Ian Botham) کرکٹ انگلینڈ کے کپتان؛ بیٹنگ اور بولنگ کے ریکارڈ
اینڈی مرے (Andy Murray) ٹینس اسکاٹ لینڈ سے؛ 2012 میں یو ایس اوپن؛ 2013 اور 2016 میں ومبلڈن چیمپئن
جیکی اسٹیورٹ (Jackie Stewart) موٹر ریسنگ اسکاٹ لینڈ سے؛ 3 بار فارمولا ون کے عالمی چیمپئن
ٹوروِل اور ڈین (Torvill and Dean) آئس ڈانسنگ 1984 کا اولمپک طلائی تمغہ
ان کھلاڑیوں سے کچھ مشہور لمحے بھی جڑے ہیں۔ بینسٹر نے 6 مئی 1954 کو آکسفورڈ (Oxford) کے اِفلی روڈ (Iffley Road) ٹریک پر اپنی ایک میل کی دوڑ 3 منٹ 59.4 سیکنڈ میں پوری کی؛ اس وقت وہ میڈیکل کے طالب علم تھے اور بعد میں نیورولوجسٹ (دماغ اور اعصاب کے ڈاکٹر) بنے۔ 1996 میں اپنا چوتھا طلائی تمغہ جیتنے کے بعد ریڈگریو نے کہا تھا کہ اگر کوئی انہیں پھر کبھی کشتی کے قریب جاتا دیکھے تو انہیں گولی مار دینے کی اسے ان کی طرف سے اجازت ہے، پھر بھی وہ واپس آئے اور 2000 میں پانچواں طلائی تمغہ جیت لیا۔ سرائیوو (Sarajevo) میں 1984 کے سرمائی اولمپکس میں ٹوروِل اور ڈین نے Boléro کی دھن پر اسکیٹنگ کی، اور ہر جج نے انہیں فنکارانہ تاثر کے لیے پورے 6.0 نمبر دیے۔ اور برطانوی اخبارات نے 4 اگست 2012 کو "سپر سیٹرڈے" (Super Saturday) کا نام دیا، کیونکہ ایک گھنٹے سے کم وقت میں اینس (ہیپٹاتھلون)، لانگ جمپ کے کھلاڑی گریگ ردرفورڈ (Greg Rutherford) اور فرح (10,000 میٹر) تینوں نے طلائی تمغے جیتے۔
کوئز
Which British athlete, in 1954, became the first person ever to run one mile in less than four minutes?
سوال اردو میں1954 میں کون سا برطانوی ایتھلیٹ ایک میل چار منٹ سے کم وقت میں دوڑنے والا دنیا کا پہلا شخص بنا؟
جواب راجر بینسٹر (Roger Bannister) ہے۔ مو فرح نے 2012 میں لمبی دوڑ کے دو طلائی تمغے جیتے، اسٹیو ریڈگریو روئنگ کے کھلاڑی ہیں، اور بوبی مور 1966 کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی فٹ بال ٹیم کے کپتان تھے۔
کوئز
Which TWO of these athletes each won the London Marathon six times?
سوال اردو میںان میں سے کن دو کھلاڑیوں نے چھ چھ بار لندن میراتھن جیتی؟
ٹینی گرے تھامسن اور ڈیوڈ ویئر دونوں وہیل چیئر ریس کرتے ہیں، اور دونوں نے چھ چھ بار لندن میراتھن جیتی۔ یاد رکھنے کا طریقہ: وہیل چیئر + میراتھن + چھ۔ مو فرح اور کیلی ہومز دوڑ کے اولمپک چیمپئن ہیں۔
کوئز
Which of the following statements is correct?
سوال اردو میںان میں سے کون سا بیان درست ہے؟ A: 2012 میں اینڈی مرے نے یو ایس اوپن میں مردوں کا سنگلز ٹائٹل جیتا۔ B: 2012 میں اینڈی مرے نے ومبلڈن میں مردوں کا سنگلز ٹائٹل جیتا۔
2012 میں مرے نے یو ایس اوپن جیتا، جو ان کا پہلا گرینڈ سلیم سنگلز ٹائٹل تھا؛ اسی سال ومبلڈن کے فائنل میں وہ ہار گئے۔ ان کے ومبلڈن ٹائٹل بعد میں آئے: 2013 اور 2016 میں۔
کوئز
In which TWO years did Andy Murray win the men's singles title at Wimbledon?
سوال اردو میںاینڈی مرے نے کن دو سالوں میں ومبلڈن میں مردوں کا سنگلز ٹائٹل جیتا؟
مرے نے ومبلڈن 2013 اور 2016 میں جیتا۔ 2012 میں انہوں نے اس کے بجائے یو ایس اوپن جیتا، ساتھ ہی اولمپک طلائی اور چاندی کے تمغے بھی۔ یاد رکھنے کا طریقہ: 2016 ان کے لیے دوہری خوشی کا سال تھا، دوسرا ومبلڈن ٹائٹل اور دوسرا اولمپک طلائی تمغہ۔
کوئز
Is the statement below TRUE or FALSE?
Sir Chris Hoy is a Scottish racing driver who was Formula 1 world champion three times.
سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: سر کرس ہوئے اسکاٹ لینڈ کے ایک ریسنگ ڈرائیور ہیں جو تین بار فارمولا ون کے عالمی چیمپئن بنے۔
غلط (FALSE)۔ دونوں آدمی اسکاٹ لینڈ کے ہیں، اس لیے انہیں آپس میں ملا دینا آسان ہے۔ کرس ہوئے سائیکل سوار ہیں جن کے پاس چھ اولمپک طلائی اور ایک چاندی کا تمغہ ہے؛ تین بار فارمولا ون کے عالمی چیمپئن جیکی اسٹیورٹ ہیں۔
کرکٹ، فٹ بال اور رگبی
کرکٹ: پانچ دن، اور پھر بھی ڈرا
کرکٹ انگلینڈ میں شروع ہوئی، اور آج بہت سے ملکوں میں کھیلی جاتی ہے۔ ایک ہی میچ پانچ دن تک چل سکتا ہے اور پھر بھی ڈرا پر ختم ہو سکتا ہے۔ اس کھیل کے انوکھے مزاج اور پیچیدہ قوانین کو برطانویوں کی بہترین صورت کا آئینہ سمجھا جاتا ہے، یعنی ان کا منصفانہ کھیل (فیئر پلے) کا مضبوط احساس۔
کرکٹ کے بہت سے جملے روزمرہ انگریزی کا حصہ بن گئے ہیں، اور اگر آپ برطانیہ میں رہتے ہیں تو یہ ضرور سنیں گے:
rain stopped play
لفظی معنی: بارش نے کھیل روک دیا۔ اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی کام کسی غیر متوقع مسئلے کی وجہ سے رک جائے۔
batting on a sticky wicket
گیلی، چپچپی پچ پر بیٹنگ کرنا جہاں گیند عجیب طرح سے اچھلتی ہے۔ اس وقت بولا جاتا ہے جب آپ کسی مشکل صورتِ حال میں ہوں۔
playing a straight bat
گیند کو احتیاط اور درست طریقے سے روکنا۔ کسی معاملے کو محتاط اور محفوظ طریقے سے، خطرہ مول لیے بغیر، نمٹانے کے لیے بولا جاتا ہے۔
bowled a googly
ایسی گھومتی گیند (گگلی) کرانا جو بیٹسمین کی توقع کے الٹ سمت میں مڑے۔ اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی آپ کے سامنے ایسا الجھا ہوا مسئلہ رکھ دے جس کے لیے آپ تیار نہیں تھے۔
it's just not cricket
لفظی معنی: "یہ کرکٹ نہیں ہے"۔ اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی بات ناانصافی یا بے ایمانی کی ہو۔
کرکٹ کا سب سے مشہور مقابلہ ایشیز (the Ashes) ہے، جو انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ میچوں (Test matches) کی ایک سیریز ہے۔
یہ نام ایک مذاق سے شروع ہوا۔ 1882 میں آسٹریلیا نے پہلی بار انگلینڈ کی سرزمین پر ایک ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کو ہرایا۔ لندن کے ایک اخبار The Sporting Times نے مذاق میں ایک تعزیتی اعلان چھاپا کہ انگلش کرکٹ مر گئی ہے، اس کی لاش جلائی جائے گی اور راکھ (ashes) آسٹریلیا لے جائی جائے گی۔ آسٹریلیا کا دورہ کرنے والے انگلینڈ کے اگلے کپتان نے "راکھ واپس جیتنے" کا وعدہ کیا، اور سیریز کے بعد انہیں ایک چھوٹا سا مرتبان دیا گیا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں ایک جلی ہوئی بیل (bail، یعنی وکٹوں کے اوپر رکھی جانے والی لکڑی کی چھوٹی گلی) کی راکھ ہے۔ یہ مرتبان آج بھی لندن کے لارڈز (Lord's) کرکٹ گراؤنڈ کے عجائب گھر میں رکھا ہے۔
فٹ بال: برطانیہ کا پسندیدہ کھیل
فٹ بال برطانیہ کا سب سے مقبول کھیل ہے۔ یہاں اس کی تاریخ پرانی ہے، اور پہلے پیشہ ور کلب 19ویں صدی کے آخر میں بنے۔
لیگیں: انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ ہر ایک کی اپنی لیگیں ہیں، جن میں مختلف قصبوں اور شہروں کے کلب کھیلتے ہیں۔ انگلش پریمیئر لیگ (Premier League) کو دنیا بھر میں بہت بڑی تعداد میں لوگ دیکھتے ہیں، اور دنیا کے بہت سے بہترین کھلاڑی اس میں کھیلتے ہیں۔
یورپ: برطانیہ کے بہت سے کلب یوئیفا چیمپئنز لیگ (UEFA Champions League) جیسے مقابلوں میں باقی یورپ کی ٹیموں سے بھی کھیلتے ہیں۔
اپنے شہر کی ٹیم: بہت سے قصبوں اور شہروں کے اپنے پیشہ ور کلب ہیں، اور شائقین فخر سے اپنی مقامی ٹیم کی حمایت کرتے ہیں۔ کلبوں کے درمیان، اور ان کے شائقین کے درمیان، مقابلہ بہت سخت ہو سکتا ہے۔
قومی ٹیمیں: چاروں قوموں میں سے ہر ایک کی اپنی قومی ٹیم ہے، جو فیفا ورلڈ کپ (FIFA World Cup) اور یوئیفا یورپی فٹ بال چیمپئن شپ (UEFA European Football Championships) جیسے ٹورنامنٹس میں کھیلتی ہے۔ انگلینڈ نے صرف ایک بڑا بین الاقوامی ٹورنامنٹ جیتا ہے: 1966 کا ورلڈ کپ، جس کی میزبانی برطانیہ نے کی تھی۔ وہ فائنل ویمبلے اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، اور انگلینڈ نے اضافی وقت (ایکسٹرا ٹائم) کے بعد مغربی جرمنی کو 2 کے مقابلے میں 4 گول سے ہرایا۔ ملکہ الزبتھ دوم (Elizabeth II) سے ٹرافی وصول کرنے والے کپتان بوبی مور تھے، اور آج نئے ویمبلے کے باہر ان کا ایک مجسمہ کھڑا ہے۔
شوقیہ فٹ بال: ہر ہفتے پورے برطانیہ کے پارکوں میں بہت سے لوگ شوقیہ میچ کھیلتے ہیں، اور فٹ بال کمیونٹی کا ایک مقبول کھیل ہے۔
رگبی: قوانین کے دو الگ نظام
رگبی 19ویں صدی کے شروع میں انگلینڈ میں شروع ہوئی۔ اس کی دو قسمیں ہیں، ہر ایک کے اپنے قوانین: رگبی یونین (rugby union) اور رگبی لیگ (rugby league)۔ انگلینڈ، ویلز، اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ، ہر ایک کی دونوں قسم کی رگبی میں لیگیں اور قومی ٹیمیں ہیں۔ شمالی آئرلینڈ جمہوریہ آئرلینڈ (Republic of Ireland) کے ساتھ مل کر ایک آئرش ٹیم بناتا ہے۔
رگبی یونین کا سب سے مشہور مقابلہ سکس نیشنز چیمپئن شپ (Six Nations Championship) ہے، جس میں انگلینڈ، آئرلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز کے ساتھ فرانس اور اٹلی کھیلتے ہیں۔
کلبوں کے لیے رگبی لیگ کا سب سے مشہور مقابلہ سپر لیگ (Super League) ہے۔
رگبی کی ابتدا کے بارے میں کہانی یہ ہے کہ 1823 میں رگبی اسکول (Rugby School) کے ایک طالب علم ولیم ویب ایلس (William Webb Ellis) نے فٹ بال کے ایک کھیل کے دوران گیند ہاتھوں میں اٹھا لی اور اسے لے کر بھاگ پڑے، اور یوں رگبی "ایجاد" ہو گئی۔ یہ کہانی کئی دہائیوں بعد لکھی گئی، اور بہت سے مؤرخین اسے محض ایک روایت سمجھتے ہیں۔ پھر بھی رگبی ورلڈ کپ کی ٹرافی کو آج بھی ویب ایلس کپ (Webb Ellis Cup) کہا جاتا ہے۔
کوئز
The Ashes is a famous series of Test cricket matches between England and which country?
سوال اردو میںایشیز ٹیسٹ کرکٹ میچوں کی ایک مشہور سیریز ہے جو انگلینڈ اور کس ملک کے درمیان کھیلی جاتی ہے؟
ایشیز انگلینڈ بمقابلہ آسٹریلیا ہے۔ یاد رکھنے کا طریقہ: 1882 کے مذاقیہ تعزیتی اعلان میں کہا گیا تھا کہ انگلش کرکٹ کی "راکھ" آسٹریلیا لے جائی گئی ہے۔
کوئز
Which TWO of these countries take part in the Six Nations rugby union championship?
سوال اردو میںان میں سے کون سے دو ملک رگبی یونین کی سکس نیشنز چیمپئن شپ میں حصہ لیتے ہیں؟
چھ قومیں یہ ہیں: انگلینڈ، آئرلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز، اور ساتھ براعظم یورپ سے فرانس اور اٹلی۔ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا رگبی کے مضبوط ملک ہیں، لیکن وہ یورپ میں نہیں ہیں اور سکس نیشنز میں نہیں کھیلتے۔
گھڑ دوڑ، گالف اور ٹینس
گھڑ دوڑ: بادشاہوں اور ملکاؤں کا کھیل
برطانیہ میں گھڑ دوڑ کی تاریخ بہت پرانی ہے: رومی دور تک کی دوڑوں کے ثبوت ملتے ہیں، اور اس کھیل کا شاہی خاندان سے ہمیشہ گہرا تعلق رہا ہے۔ ملک بھر میں ریس کورس ہیں، اور ان میں سے چار جگہیں خاص طور پر یاد رکھنے والی ہیں:
رائل ایسکاٹ (Royal Ascot)، برکشائر (Berkshire) میں: پانچ دن کی دوڑیں، جنہیں دیکھنے شاہی خاندان کے افراد بھی آتے ہیں۔ یہ ریس کورس 1711 میں ملکہ این (Queen Anne) نے قائم کیا، اور یہ ونڈسر کاسل سے تقریباً 10 کلومیٹر دور ہے؛ ہر سال جون میں یہاں تماشائیوں کے ہیٹ اور لباس پر تقریباً اتنی ہی توجہ دی جاتی ہے جتنی گھوڑوں پر۔
گرینڈ نیشنل (Grand National): لیورپول کے قریب اینٹری (Aintree) میں ہوتی ہے۔
اسکاٹش گرینڈ نیشنل (Scottish Grand National): اسکاٹ لینڈ کے شہر ایئر (Ayr) میں ہوتی ہے۔
گھڑ دوڑ کا قومی عجائب گھر (National Horseracing Museum): سفک (Suffolk) کے نیو مارکیٹ (Newmarket) میں ہے۔
گالف: اسکاٹ لینڈ کا پرانا کھیل
گالف کا جدید کھیل 15ویں صدی کے اسکاٹ لینڈ سے شروع ہوتا ہے۔ آج بہت سے لوگ اسے شوق سے یا پیشہ ور کے طور پر کھیلتے ہیں، اور پورے برطانیہ میں عوامی اور نجی دونوں طرح کے گالف کورس ملتے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کے سینٹ اینڈریوز (St Andrews) کو گالف کا گھر کہا جاتا ہے۔
دراصل تاریخی ریکارڈ میں لفظ "golf" پہلی بار ایک پابندی میں ملتا ہے۔ 1457 میں اسکاٹ لینڈ کے بادشاہ جیمز دوم (James II) نے گالف اور فٹ بال پر پابندی لگا دی، کیونکہ لوگ تیر اندازی کی مشق کرنے کے بجائے یہ کھیل کھیلتے تھے۔
دی اوپن چیمپئن شپ (The Open Championship) گالف کے چار بڑے مقابلوں، یعنی "میجرز" (Majors)، میں سے واحد مقابلہ ہے جو امریکہ سے باہر ہوتا ہے، اور ہر سال ایک مختلف کورس اس کی میزبانی کرتا ہے۔
سینٹ اینڈریوز کے اولڈ کورس (Old Course) کے 18ویں ہول پر سوِلکن برج (Swilcan Bridge)، جہاں گالف کے شائقین شوق سے تصویریں کھنچواتے ہیں۔
تصویر: Eddy23، CC BY-SA 4.0، بذریعہ Wikimedia Commons
ٹینس: ومبلڈن کی گھاس
ٹینس، جیسا ہم آج اسے جانتے ہیں، 19ویں صدی کے آخر میں انگلینڈ میں اپنی شکل میں آیا۔ پہلا ٹینس کلب 1872 میں لیمنگٹن اسپا (Leamington Spa) میں بنا۔
برطانیہ کا سب سے مشہور ٹورنامنٹ ومبلڈن چیمپئن شپس (The Wimbledon Championships) ہے، جو ہر گرمیوں میں آل انگلینڈ لان ٹینس اینڈ کروکے کلب (All England Lawn Tennis and Croquet Club) میں کھیلا جاتا ہے۔ دنیا کا کوئی ٹینس ٹورنامنٹ اس سے پرانا نہیں، اور چار گرینڈ سلیم (Grand Slam) مقابلوں میں سے یہ واحد ہے جو گھاس پر کھیلا جاتا ہے۔
کلب کے پورے نام میں "کروکے" (croquet) اس لیے ہے کہ یہ شروع میں کروکے کا کلب تھا۔ ٹینس بعد میں شامل ہوا، اور پہلی ومبلڈن چیمپئن شپس 1877 میں ہوئیں۔ آج ومبلڈن جائیں تو ایک پیالہ اسٹرابیری اور کریم اس سفر کا حصہ ہوتا ہے، اور کھلاڑیوں کو ایک قاعدے کے تحت تقریباً پورا سفید لباس پہننا پڑتا ہے۔
ومبلڈن کا سینٹر کورٹ (Centre Court)، جس کی تصویر مارچ میں، ٹورنامنٹ کے موسم سے باہر، لی گئی۔
تصویر: Daniel from United Kingdom، CC BY 2.0، بذریعہ Wikimedia Commons
کوئز
Where is the Grand National horse race held?
سوال اردو میںگرینڈ نیشنل گھڑ دوڑ کہاں ہوتی ہے؟
چاروں جوابات گھڑ دوڑ کی مشہور جگہیں ہیں: ایسکاٹ میں رائل ایسکاٹ ہوتی ہے، ایئر میں اسکاٹش گرینڈ نیشنل ہوتی ہے، اور نیو مارکیٹ میں گھڑ دوڑ کا قومی عجائب گھر ہے۔ گرینڈ نیشنل لیورپول کے قریب اینٹری میں ہوتی ہے۔
کوئز
Is the statement below TRUE or FALSE?
Wimbledon, which is played on grass, is the world's oldest tennis tournament.
سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: ومبلڈن، جو گھاس پر کھیلا جاتا ہے، دنیا کا سب سے پرانا ٹینس ٹورنامنٹ ہے۔
درست (TRUE)۔ ومبلڈن سب سے پرانا ٹینس ٹورنامنٹ ہے، اور گھاس پر کھیلا جانے والا واحد گرینڈ سلیم بھی۔ اسے پہلے ٹینس کلب سے نہ ملائیں، جو 1872 میں لیمنگٹن اسپا میں بنا تھا۔
بادبانی کشتی رانی، روئنگ، موٹر ریسنگ اور اسکیئنگ
پانی کے کھیل: ایک سمندری روایت
برطانیہ چاروں طرف سے سمندر سے گھرا ہے، اور بادبانی کشتی رانی ہمیشہ سے مقبول رہی ہے، جو ایک سمندری قوم کے طور پر ملک کی لمبی تاریخ کی نشانی ہے۔
1966 تا 1967 کے دوران برطانوی ملاح سر فرانسس چیچسٹر (Sir Francis Chichester) اکیلے کشتی میں دنیا کے گرد چکر لگانے والے پہلے شخص بنے۔ راستے میں وہ دو براعظموں کے جنوبی سروں سے گزرے: افریقہ میں کیپ آف گڈ ہوپ (Cape of Good Hope) اور جنوبی امریکہ میں کیپ ہارن (Cape Horn)۔ 1967 میں گھر واپسی کے بعد الزبتھ دوم نے انہیں اسی تلوار سے نائٹ بنایا جس سے تقریباً چار سو سال پہلے الزبتھ اول (Elizabeth I) نے فرانسس ڈریک (Francis Drake) کو نائٹ بنایا تھا۔ ڈریک دنیا کے گرد سفر کی قیادت کرنے والے پہلے انگریز تھے (دیکھیں ٹیوڈر خاندان)۔
سر رابن ناکس جانسٹن (Sir Robin Knox-Johnston) دو سال بعد ان سے بھی آگے نکل گئے: انہوں نے اکیلے دنیا کا چکر ایک بار بھی رکے بغیر لگایا، اور ایسا کرنے والے دنیا کے پہلے شخص بنے۔
برطانیہ بھر میں بادبانی کشتیوں کے مقابلے ہوتے ہیں۔ سب سے مشہور مقابلہ آئل آف وائٹ (Isle of Wight) کے قصبے کاؤز (Cowes) میں ہوتا ہے۔
روئنگ (چپو سے کشتی چلانا) شوق کے طور پر بھی مقبول ہے اور مقابلے کے کھیل کے طور پر بھی۔ ہر سال آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیاںدریائے ٹیمز پر ایک دوسرے سے دوڑ لگاتی ہیں، اور بہت سے لوگ اسے دیکھتے ہیں۔ یہ دوڑ (Boat Race) 1829 میں شروع ہوئی، اور جنوب مغربی لندن میں دریائے ٹیمز پر پٹنی (Putney) سے مورٹ لیک (Mortlake) تک ہوتی ہے، جو تقریباً 6.8 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔
موٹر ریسنگ: 1902 سے
برطانیہ میں موٹر اسپورٹس، یعنی کار اور موٹر سائیکل دونوں کی دوڑوں، کی تاریخ لمبی ہے، اور یہاں کار ریسنگ 1902 میں شروع ہوئی۔ برطانیہ آج بھی موٹر اسپورٹس کی ٹیکنالوجی ڈیزائن کرنے اور بنانے میں دنیا کے صفِ اول کے ملکوں میں ہے۔ ہر سال برطانیہ میں ایک فارمولا ون (Formula 1) گراں پری ہوتی ہے، اور کئی برطانوی ڈرائیور فارمولا ون کے عالمی چیمپئن بن چکے ہیں۔ حالیہ چیمپئنز میں ڈیمن ہل (Damon Hill)، لیوس ہیملٹن (Lewis Hamilton) اور جینسن بٹن (Jenson Button) شامل ہیں۔ برٹش گراں پری (British Grand Prix) عموماً انگلینڈ کے مڈلینڈز (Midlands) علاقے میں سلور اسٹون (Silverstone) پر ہوتی ہے، اور فارمولا ون عالمی چیمپئن شپ کی سب سے پہلی ریس 13 مئی 1950 کو وہیں ہوئی تھی۔
اسکیئنگ: برف ضروری نہیں
برطانیہ میں اسکیئنگ کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے۔ بہت سے لوگ اسکیئنگ کی چھٹیوں پر بیرونِ ملک جاتے ہیں، لیکن آپ ملک بھر میں ڈرائی سلوپس پر بھی مشق کر سکتے ہیں، اور سردیوں میں کبھی کبھی اسکیئنگ کے لیے اصلی برف بھی مل جاتی ہے۔ اسکاٹ لینڈ میں اسکیئنگ کے پانچ مراکز ہیں، اور یورپ کی سب سے لمبی ڈرائی اسکی سلوپایڈنبرا کے قریب ہے۔
کوئز
Who was the first person to sail alone around the world without stopping?
سوال اردو میںاکیلے اور بغیر رکے کشتی میں دنیا کے گرد چکر لگانے والا پہلا شخص کون تھا؟
چیچسٹر اکیلے دنیا کا چکر لگانے والے پہلے شخص تھے (1966/67، راستے میں ایک جگہ رک کر)۔ دو سال بعد ناکس جانسٹن نے اکیلے اور بغیر رکے پہلا سفر کیا۔ میک آرتھر نے 2004 میں اکیلے سب سے تیز سفر کیا، اور ریڈگریو روئنگ کے کھلاڑی ہیں۔
کوئز
Every year, students from which two universities race each other in rowing boats on the River Thames?
سوال اردو میںہر سال کن دو یونیورسٹیوں کے طلبہ دریائے ٹیمز پر روئنگ (کشتی رانی) کی دوڑ میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں؟
جواب آکسفورڈ (Oxford) اور کیمبرج (Cambridge) ہے۔ دریائے ٹیمز پر ان کی سالانہ دوڑ سے پتا چلتا ہے کہ روئنگ شوق کے طور پر بھی مقبول ہے اور مقابلے کے کھیل کے طور پر بھی۔
باب کا خلاصہ
برطانیہ میں شروع ہوئے
کرکٹ، فٹ بال، لان ٹینس، گالف، رگبی
اسٹیڈیم
ویمبلے اسٹیڈیم (لندن)، پرنسپیلٹی اسٹیڈیم (کارڈف)
اولمپکس: 1908، 1948، 2012
تینوں لندن میں؛ 2012 میں مرکزی مقام مشرقی لندن کا اسٹریٹفورڈ تھا، اور برطانیہ تمغوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر رہا
پیرالمپکس
ڈاکٹر گٹمین (ایک جرمن پناہ گزین) اور بکنگھم شائر کے اسٹوک مینڈیول میں ان کے ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ والے مریض؛ لندن نے 2012 کے پیرالمپکس کی میزبانی بھی کی
1954: بینسٹر (Bannister)
ایک میل چار منٹ سے کم میں دوڑنے والے پہلے شخص
اسٹیورٹ (Stewart)
اسکاٹ لینڈ کے ریسنگ ڈرائیور؛ تین بار فارمولا ون کے عالمی چیمپئن
1966: بوبی مور (Bobby Moore)
ورلڈ کپ جیتنے والی انگلینڈ ٹیم کے کپتان؛ انگلینڈ کی واحد بین الاقوامی ٹورنامنٹ جیت
بوتھم (Botham)
انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان؛ بیٹنگ اور بولنگ کے ریکارڈ
وہیل چیئر ایتھلیٹ؛ دونوں نے چھ چھ بار لندن میراتھن جیتی۔ گرے تھامسن: پیرالمپکس کے 16 تمغے (11 طلائی)، 30 عالمی ریکارڈ۔ ویئر: دو پیرالمپکس میں 6 طلائی تمغے
ہومز (Holmes)
2004 کے اولمپکس میں دوڑ کے دو طلائی تمغے
میک آرتھر (MacArthur)
اکیلے دنیا کے گرد سب سے تیز سفر، 2004
ہوئے / وگنز (Hoy / Wiggins)
سائیکلنگ۔ ہوئے: اسکاٹ لینڈ سے، 6 اولمپک طلائی اور 1 چاندی کا تمغہ، 11 عالمی ٹائٹل۔ وگنز: ٹور ڈی فرانس جیتنے والے پہلے برطانوی (2012)، 8 اولمپک تمغے، 2004، 2008، 2012 اور 2016 میں طلائی تمغے
فرح (Farah)
صومالیہ میں پیدا ہوئے؛ 2012 اور 2016 کے اولمپکس میں 5,000 میٹر اور 10,000 میٹر کے طلائی تمغے
اینس ہل (Ennis-Hill)
ہیپٹاتھلون: 2012 میں اولمپک طلائی، 2016 میں چاندی کا تمغہ
مرے (Murray)
اسکاٹ لینڈ سے؛ 2012 میں یو ایس اوپن کا مینز سنگلز جیتا، 1936 کے بعد گرینڈ سلیم سنگلز ٹائٹل جیتنے والے پہلے برطانوی مرد؛ 2013 اور 2016 میں ومبلڈن چیمپئن؛ 2012 اور 2016 میں اولمپک طلائی تمغہ
سمنڈز (Simmonds)
2008، 2012 اور 2016 میں پیرالمپکس تیراکی کے طلائی تمغے؛ 2008 کی برطانوی ٹیم کی سب سے کم عمر رکن
ایشیز (The Ashes)
انگلینڈ بمقابلہ آسٹریلیا، کرکٹ کے ٹیسٹ میچوں کی سیریز
فٹ بال
سب سے مقبول کھیل؛ 19ویں صدی کے آخر سے پیشہ ور کلب؛ پریمیئر لیگ؛ 1966 کا ورلڈ کپ
رگبی
19ویں صدی کے شروع میں انگلینڈ میں شروع ہوئی؛ یونین اور لیگ؛ سکس نیشنز، سپر لیگ
15ویں صدی کا اسکاٹ لینڈ؛ سینٹ اینڈریوز؛ دی اوپن امریکہ سے باہر ہونے والا واحد میجر ہے
ٹینس
پہلا کلب لیمنگٹن اسپا میں، 1872؛ ومبلڈن سب سے پرانا ٹورنامنٹ اور گھاس پر کھیلا جانے والا واحد گرینڈ سلیم ہے
بادبانی کشتی رانی / روئنگ
چیچسٹر اکیلے دنیا کا چکر لگانے والے پہلے شخص (1966/67)، کیپ آف گڈ ہوپ اور کیپ ہارن کے راستے؛ ناکس جانسٹن بغیر رکے ایسا کرنے والے پہلے شخص؛ کاؤز؛ آکسفورڈ بمقابلہ کیمبرج کشتیوں کی دوڑ
موٹر اسپورٹس
1902 سے؛ ہر سال برطانیہ میں فارمولا ون گراں پری؛ ہل، ہیملٹن، بٹن
اسکیئنگ
اسکاٹ لینڈ میں اسکیئنگ کے پانچ مراکز؛ یورپ کی سب سے لمبی ڈرائی اسکی سلوپ ایڈنبرا کے قریب