کسی برطانوی دوست سے پوچھیں کہ اس کے آئین کی پہلی شق (Article 1) میں کیا لکھا ہے، تو غالباً وہ نہیں بتا پائے گا۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس نے اسکول میں توجہ نہیں دی تھی۔ وجہ یہ ہے کہ برطانیہ میں "آئین" کے نام سے کوئی ایک قانونی دستاویز سرے سے موجود ہی نہیں۔
تو پھر کوئی ملک آئین کے بغیر کیسے چلتا ہے؟ یہ باب پہلے یہ دیکھتا ہے کہ برطانیہ آہستہ آہستہ ایک ایسی جمہوریت کیسے بنا جہاں ہر بالغ شخص ووٹ دے سکتا ہے۔ پھر یہ ان اداروں کو دیکھتا ہے جو ملک کو چلاتے ہیں: بادشاہ یا ملکہ، پارلیمنٹ، وزیرِ اعظم، کابینہ، حزبِ اختلاف، سول سروس اور مقامی حکومت۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، اسپیکر اور انتخابات کی تفصیل اگلے باب میں ہے۔
پورے باب کا مرکزی خیال ایک جملے میں: برطانیہ ایک پارلیمانی جمہوریت (parliamentary democracy) ہے، اور اس کا سربراہِ مملکت بادشاہ یا ملکہ (monarch) ہے۔
ووٹ کا حق تھوڑا تھوڑا کر کے ملا
جمہوریت (democracy) میں تمام بالغ لوگوں کو یہ کہنے کا حق ہوتا ہے کہ ملک کیسے چلایا جائے۔ وہ یا تو خود فیصلوں پر ووٹ دیتے ہیں، یا ایسے لوگوں کو منتخب کرتے ہیں جو ان کی طرف سے فیصلے کریں۔
لیکن 19ویں صدی کے شروع میں برطانیہ آج کے معنوں میں جمہوریت نہیں تھا۔ انتخابات ہوتے تھے اور ارکانِ پارلیمنٹ (MP) چنے جاتے تھے، لیکن ووٹ صرف لوگوں کا ایک چھوٹا سا گروہ دے سکتا تھا: 21 سال سے زیادہ عمر کے وہ مرد جن کے پاس ایک خاص حد تک جائیداد ہو۔
جیسے جیسے صدی آگے بڑھی، ووٹ کا حق (franchise) زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ملتا گیا، اور سیاسی جماعتوں نے عام مردوں اور عورتوں کو رکن بنانا شروع کر دیا۔
چارٹسٹوں کے چھ مطالبات
1830 اور 1840 کی دہائیوں میں چارٹسٹ (Chartists) کے نام سے مشہور ایک گروہ نے اصلاحات کے لیے مہم چلائی۔ وہ چھ تبدیلیاں چاہتے تھے:
1ہر مرد کے لیے ووٹ
2ہر سال انتخابات
3انتخابی نظام میں ہر علاقے کے ساتھ برابر سلوک
4خفیہ رائے شماری
5کوئی بھی مرد رکنِ پارلیمنٹ کا امیدوار بن سکے
6ارکانِ پارلیمنٹ کے لیے تنخواہ
اس وقت زیادہ تر لوگوں کا خیال تھا کہ یہ تحریک ناکام ہو گئی ہے۔ پھر بھی 1918 تک ان میں سے زیادہ تر اصلاحات حقیقت بن چکی تھیں۔
لندن کے کیننگٹن کامن (Kennington Common) پر چارٹسٹوں کا بڑا جلسہ، 10 اپریل 1848۔ یہ کسی بڑے ہجوم کی سب سے پہلی تصویروں میں سے ایک ہے۔
تصویر: William Edward Kilburn، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons
اس کے بعد چارٹسٹوں کے مطالبات ایک ایک کر کے پورے ہوئے: رکنِ پارلیمنٹ بننے کے لیے جائیداد کی شرط ختم ہو گئی (1858)، ووٹ خفیہ ہو گیا (1872)، ارکانِ پارلیمنٹ کو تنخواہ ملنے لگی (1911)، اور تمام بالغ مردوں کو ووٹ کا حق مل گیا (1918)۔ 19ویں صدی کے آخر میں انتخابی حلقوں کا سائز بھی آہستہ آہستہ زیادہ برابر کیا گیا۔ صرف ایک مطالبہ کبھی پورا نہیں ہوا، یعنی ہر سال نئے انتخابات۔ آج برطانیہ میں عام انتخابات (General Election) کم از کم ہر پانچ سال میں ایک بار ہوتے ہیں، ہر سال نہیں۔
چند مردوں سے 18 سال کے ہر شہری تک
180019ویں صدی کا آغاز: صرف 21 سال سے زیادہ عمر کے وہ مرد ووٹ دے سکتے ہیں جن کے پاس ایک خاص حد تک جائیداد ہو
1830 کی دہائی1830 اور 1840 کی دہائیاں: چارٹسٹ چھ اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہیں؛ اس وقت انہیں ناکام سمجھا جاتا ہے
1918چارٹسٹوں کی زیادہ تر اصلاحات اب نافذ ہو چکی ہیں، اور 30 سال سے زیادہ عمر کی عورتوں کو ووٹ کا حق ملتا ہے
192821 سال سے زیادہ عمر کے تمام مرد اور عورتیں برابر شرائط پر ووٹ دے سکتے ہیں
1969مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ووٹ کی عمر کم کر کے 18 سال کر دی جاتی ہے
کوئز
In 1928, who gained the right to vote?
سوال اردو میں1928 میں کس کو ووٹ کا حق ملا؟ A: صرف 30 سال سے زیادہ عمر کی عورتیں B: 18 سال اور اس سے زیادہ عمر کے مرد اور عورتیں C: 21 سال سے زیادہ عمر کے مرد اور عورتیں D: صرف وہ مرد جن کے پاس جائیداد تھی
تینوں سال الگ الگ یاد رکھیں: 1918 میں 30 سال سے زیادہ عمر کی عورتیں؛ 1928 میں 21 سال سے زیادہ عمر کے مرد اور عورتیں؛ 1969 میں عمر کم کر کے 18۔ صرف جائیداد والے مردوں کا ووٹ 19ویں صدی کے شروع کی صورتِ حال تھی۔
کوئز
Which TWO of these changes did the Chartists campaign for?
سوال اردو میںچارٹسٹوں نے ان میں سے کن دو تبدیلیوں کے لیے مہم چلائی؟ A: ارکانِ پارلیمنٹ کو تنخواہ B: 30 سال سے زیادہ عمر کی عورتوں کو ووٹ کا حق C: بادشاہت کا خاتمہ D: خفیہ ووٹنگ
ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہ اور خفیہ رائے شماری چھ مطالبات میں سے دو تھے۔ چارٹسٹ ہر مرد کے لیے ووٹ چاہتے تھے؛ انہوں نے عورتوں کے ووٹ کا مطالبہ نہیں کیا، اور 30 سال سے زیادہ عمر کی عورتوں کو ووٹ کا حق 1918 میں جا کر ملا۔ انہوں نے بادشاہت ختم کرنے کا مطالبہ بھی نہیں کیا۔
کوئز
Is the statement below TRUE or FALSE?
The voting age for both men and women was lowered to 18 in 1969.
سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: 1969 میں مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ووٹ کی عمر کم کر کے 18 سال کر دی گئی۔
درست (TRUE): 1969 میں ووٹ کی عمر 18 ہو گئی۔
ایک آئین جو لکھا ہوا نہیں
آئین (constitution) کسی ملک پر حکومت کرنے کے اصولوں کی کتاب ہے۔ اس میں ملک چلانے میں مدد دینے والا ہر ادارہ شامل ہوتا ہے، اور وہ طریقے بھی جن سے ان کی طاقت قابو میں رکھی جاتی ہے۔ اس میں قوانین اور روایات (conventions) بھی شامل ہیں، یعنی ایسے طور طریقے جن پر سب عمل کرتے ہیں حالانکہ وہ قانون میں لکھے ہوئے نہیں ہیں۔
برطانیہ کا آئین کسی ایک دستاویز میں درج نہیں، اس لیے لوگ اسے غیر تحریری آئین (unwritten constitution) کہتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکہ یا فرانس کے برعکس برطانیہ میں کبھی ایسا انقلاب نہیں آیا جس نے حکومت کا پورا نظام ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہو۔ اس کے بجائے، اس کے سب سے اہم ادارے سیکڑوں برسوں میں آہستہ آہستہ پروان چڑھے۔
کیا آئین کو ایک جگہ لکھ دینا چاہیے؟ برطانوی لوگ اس پر متفق نہیں۔ کچھ سمجھتے ہیں کہ ایسا ہونا چاہیے۔ دوسروں کا خیال ہے کہ غیر تحریری آئین زیادہ لچکدار ہے اور حکومت کو بہتر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔
کسی ایک دستاویز کے نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی اصول ہی نہیں۔ برطانیہ کا آئین بہت سے ذرائع میں پھیلا ہوا ہے: 1215 کا میگنا کارٹا (Magna Carta)، 1689 کا بل آف رائٹس (Bill of Rights)، برسوں کے دوران پارلیمنٹ کے منظور کیے ہوئے قوانین، عدالتوں کے فیصلے، اور وہ روایات جن پر سب خاموشی سے عمل کرتے ہیں۔ نیوزی لینڈ اور اسرائیل جیسے ملک، جن کا کوئی ایک تحریری آئین نہیں، دنیا میں بہت کم ہیں۔
وہ ادارے جو ملک کو جوڑے رکھتے ہیں
برطانیہ کے نظامِ حکومت کے کئی حصے ہیں۔ بڑے حصے یہ ہیں:
بادشاہت (the monarchy)
پارلیمنٹ (Parliament)، جو دارالامرا (House of Lords) اور دارالعوام (House of Commons) پر مشتمل ہے
وزیرِ اعظم (Prime Minister)
کابینہ (the cabinet)
عدلیہ (the judiciary)، یعنی عدالتیں
پولیس (the police)
سول سروس (the civil service)
مقامی حکومت (local government)
اس کے علاوہ اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کی اپنی حکومتیں ہیں جنہیں کچھ اختیارات منتقل کیے گئے ہیں (devolved governments)؛ یہ کچھ معاملات پر اپنے قوانین بنا سکتی ہیں۔
برطانوی حکومت کے حصے آپس میں کیسے جڑے ہیں۔ ووٹر دارالعوام کے لیے ارکانِ پارلیمنٹ منتخب کرتے ہیں، بادشاہ یا ملکہ سب سے بڑی جماعت کے رہنما کو وزیرِ اعظم بننے کی دعوت دیتے ہیں، اور پھر وزیرِ اعظم کابینہ مقرر کرتا ہے۔
کوئز
Which of the following statements is correct?
سوال اردو میںان میں سے کون سا بیان درست ہے؟ A: فرانس اور امریکہ کی طرح، برطانیہ کا آئین بھی ایک انقلاب کے بعد ایک دستاویز میں لکھا گیا۔ B: برطانیہ میں کوئی ایک دستاویز نہیں جس میں اس کا آئین درج ہو، اس لیے اس آئین کو "غیر تحریری" کہا جاتا ہے۔
بات اس کے اُلٹ ہے۔ برطانیہ کا تحریری آئین اسی لیے نہیں کہ وہاں کبھی ایسا انقلاب نہیں آیا جس نے نظام کو بالکل نئے سرے سے شروع کیا ہو۔ امریکہ اور فرانس ان ملکوں کی مثالیں ہیں جنہوں نے انقلاب کے بعد آئین لکھا۔
بادشاہ یا ملکہ: تخت پر، مگر حکومت نہیں چلاتے
بادشاہ یا ملکہ برطانیہ کے سربراہِ مملکت ہیں، اور دولتِ مشترکہ (Commonwealth) کے بہت سے ملکوں کے بھی بادشاہ یا سربراہِ مملکت ہیں۔
برطانیہ کا نظام آئینی بادشاہت (constitutional monarchy) ہے۔ عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ بادشاہ یا ملکہ ملک نہیں چلاتے۔ ووٹر انتخابات میں حکومت چنتے ہیں، اور بادشاہ یا ملکہ رسمی طور پر اسے مقرر کرتے ہیں۔ انتخابات کے بعد بادشاہ یا ملکہ اس جماعت کے رہنما کو، جس کے ارکانِ پارلیمنٹ سب سے زیادہ ہوں، یا اتحاد کے رہنما کو (یعنی جب دو یا زیادہ جماعتیں مل کر حکومت کریں) وزیرِ اعظم بننے کی دعوت دیتے ہیں۔
بادشاہ یا ملکہ اور وزیرِ اعظم باقاعدگی سے ملتے ہیں۔ بادشاہ یا ملکہ مشورہ دے سکتے ہیں، خبردار کر سکتے ہیں یا حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں، لیکن حکومت کی پالیسیاں وزیرِ اعظم اور کابینہ طے کرتے ہیں۔
الزبتھ دوم ونسٹن چرچل (Winston Churchill) کے زمانے سے ہر وزیرِ اعظم سے یہ باقاعدہ ملاقاتیں کرتی آئی ہیں۔ یہ ملاقاتیں نجی ہوتی ہیں اور ان کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا، اس لیے باہر کسی کو ٹھیک سے معلوم نہیں کہ کسی بادشاہ یا ملکہ نے کبھی کسی وزیرِ اعظم کو کیا "خبردار" کیا۔
الزبتھ دوم کی سرکاری تصویر، جو 1959 میں کینیڈا کے شاہی دورے سے پہلے لی گئی۔
تصویر: Donald McKague، Library and Archives Canada، public domain، بذریعہ Wikimedia Commons
الزبتھ دوم (Elizabeth II) اپنے والد کی وفات کے بعد 1952 میں ملکہ بنیں، اور 2012 میں انہوں نے اپنی ڈائمنڈ جوبلی (Diamond Jubilee) منائی، یعنی تخت پر 60 سال۔ ان کے شوہر پرنس فلپ (Prince Philip) تھے، اور ان کے سب سے بڑے بیٹے پرنس چارلس (Prince Charles)، جو پرنس آف ویلز (Prince of Wales) تھے، تخت کے اگلے وارث تھے۔
بادشاہ یا ملکہ کیا کرتے ہیں؟
رسمی تقریبات: ہر سال بادشاہ یا ملکہ پارلیمنٹ کے نئے اجلاس کا افتتاح ایک تقریر سے کرتے ہیں، جس میں آنے والے سال کے لیے حکومت کے منصوبے بیان کیے جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ کا ہر قانون (Acts of Parliament) بادشاہ یا ملکہ کے نام پر قانون بنتا ہے۔
برطانیہ کی نمائندگی: بادشاہ یا ملکہ دوسرے ملکوں کے سفیروں اور ہائی کمشنروں (high commissioners، یعنی دولتِ مشترکہ کے ملکوں کے سفیر) کا استقبال کرتے ہیں، آنے والے غیر ملکی سربراہانِ مملکت کی میزبانی کرتے ہیں، اور برطانیہ کے سفارتی اور تجارتی تعلقات مضبوط کرنے کے لیے سرکاری دوروں پر بیرونِ ملک جاتے ہیں۔
استحکام اور تسلسل: وزرائے اعظم اور حکومتیں اکثر بدلتی رہتی ہیں، جبکہ بادشاہ یا ملکہ سربراہِ مملکت کے طور پر اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ بادشاہ یا ملکہ لوگوں کو قومی شناخت اور فخر کی ایک مشترکہ علامت بھی دیتے ہیں، جیسا کہ 2012 میں ملک بھر میں ڈائمنڈ جوبلی کی تقریبات سے ظاہر ہوا۔
قومی ترانہ اور شہریت کا حلف
برطانیہ کا قومی ترانہ God Save the Queen ("خدا ملکہ کی حفاظت کرے") ہے۔ یہ بڑی قومی تقریبات میں، اور جب بھی ملکہ یا شاہی خاندان کے دوسرے افراد موجود ہوں، بجایا جاتا ہے۔ پہلا بند God save our gracious Queen کے مصرعے سے شروع ہوتا ہے اور خدا سے دعا کرتا ہے کہ وہ بادشاہ یا ملکہ کو لمبی اور فتح مند حکمرانی عطا کرے۔
شہریت کی تقریب (citizenship ceremony) میں نئے شہری بادشاہ یا ملکہ سے وفاداری کا وعدہ کرتے ہیں، یا تو حلف (oath) کی صورت میں یا اقرار (affirmation) کی صورت میں۔ دونوں کا مطلب ایک ہی ہے؛ فرق صرف یہ ہے کہ خدا کا ذکر ہوتا ہے یا نہیں:
وفاداری کا حلف (Oath of allegiance)
اس میں swear (قسم کھانا) کا لفظ آتا ہے: آپ قادرِ مطلق خدا کی قسم کھا کر وعدہ کرتے ہیں کہ برطانوی شہری بننے کے بعد آپ قانون کے مطابق بادشاہ یا ملکہ اور ان کے وارثوں کے وفادار رہیں گے۔ ان لوگوں کے لیے جو خدا کے سامنے وعدہ کرنے پر خوش ہیں
وفاداری کا اقرار (Affirmation of allegiance)
اس میں affirm (اقرار کرنا) کا لفظ آتا ہے: خدا کا ذکر نہیں ہوتا؛ آپ پوری سنجیدگی اور خلوص سے اعلان کرتے ہیں کہ برطانوی شہری بننے کے بعد آپ قانون کے مطابق بادشاہ یا ملکہ اور ان کے وارثوں کے وفادار رہیں گے۔ ان لوگوں کے لیے جو مذہبی وعدہ نہ کرنا پسند کرتے ہیں
شہریت کی باقاعدہ تقریبات زیادہ پرانی نہیں۔ پہلی تقریب 2004 میں لندن کے برینٹ ٹاؤن ہال (Brent Town Hall) میں ہوئی۔ اس سے پہلے نئے شہری کسی ایسے شخص کے سامنے نجی طور پر حلف اٹھاتے تھے جسے حلف لینے کا اختیار ہو، اور ان کا سرٹیفکیٹ بعد میں ڈاک سے آتا تھا۔ آج یہ تقریبات عموماً مقامی کونسلیں منعقد کرتی ہیں، اور ان میں قومی ترانہ بجایا جاتا ہے۔
کوئز
What does it mean to say that the UK is a constitutional monarchy?
سوال اردو میںیہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ برطانیہ ایک آئینی بادشاہت ہے؟ A: پارلیمنٹ ہر پانچ سال بعد ایک نیا بادشاہ یا ملکہ منتخب کرتی ہے۔ B: بادشاہ یا ملکہ نئے قوانین لکھتے ہیں اور وزیرِ اعظم ان پر دستخط کرتا ہے۔ C: بادشاہ یا ملکہ سربراہِ مملکت ہیں لیکن ملک نہیں چلاتے؛ ملک ایک منتخب حکومت چلاتی ہے۔ D: بادشاہ یا ملکہ پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت کے رہنما بھی ہیں۔
آئینی بادشاہت میں بادشاہ یا ملکہ سربراہِ مملکت ہوتے ہیں لیکن ملک نہیں چلاتے؛ حکومت منتخب ہوتی ہے۔ سب سے بڑی جماعت کا رہنما وزیرِ اعظم ہوتا ہے، بادشاہ یا ملکہ نہیں۔
کوئز
Is the statement below TRUE or FALSE?
After the regular meetings with the Prime Minister, the monarch decides what the government's policies will be.
سوال اردو میںکیا نیچے دیا گیا بیان درست (TRUE) ہے یا غلط (FALSE)؟ بیان: وزیرِ اعظم سے باقاعدہ ملاقاتوں کے بعد بادشاہ یا ملکہ فیصلہ کرتے ہیں کہ حکومت کی پالیسیاں کیا ہوں گی۔
غلط (FALSE)۔ بادشاہ یا ملکہ صرف مشورہ، تنبیہ اور حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں۔ حکومت کی پالیسیاں وزیرِ اعظم اور کابینہ طے کرتے ہیں۔
کوئز
Which TWO of these are roles of the monarch?
سوال اردو میںان میں سے کون سے دو کام بادشاہ یا ملکہ کے کردار میں شامل ہیں؟ A: دارالعوام میں بحث کے دوران نظم و ضبط قائم رکھنا B: پارلیمنٹ کے ہر نئے اجلاس کا افتتاح کرنا C: شیڈو کابینہ کی قیادت کرنا D: دوسرے ملکوں کے سفیروں کا استقبال کرنا
دارالعوام کی بحثوں میں نظم و ضبط قائم رکھنا اسپیکر (Speaker) کا کام ہے، جن سے آپ اگلے باب میں ملیں گے۔ شیڈو کابینہ (shadow cabinet) کی قیادت قائدِ حزبِ اختلاف کرتا ہے۔
پارلیمانی جمہوریت: ووٹر ← ارکانِ پارلیمنٹ ← حکومت
برطانیہ پارلیمانی جمہوریت کے طور پر چلایا جاتا ہے۔ پورا ملک ایسے علاقوں میں تقسیم ہے جنہیں انتخابی حلقے (constituencies) کہتے ہیں۔ عام انتخابات (General Election) میں ہر حلقے کے رہنے والے اپنی نمائندگی کے لیے ایک رکنِ پارلیمنٹ (MP) چنتے ہیں، اور یہ سب ارکان مل کر دارالعوام (House of Commons) بناتے ہیں۔
تقریباً ہر رکنِ پارلیمنٹ کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہے۔ جس جماعت کے پاس آدھے سے زیادہ ارکان ہوں، وہ حکومت بناتی ہے۔ اگر کسی جماعت کے پاس آدھے سے زیادہ ارکان نہ ہوں، تو دو جماعتیں مل کر مخلوط حکومت (coalition) بنانے پر متفق ہو سکتی ہیں۔
اوپر والا خاکہ دوبارہ دیکھیں: ووٹر ارکانِ پارلیمنٹ کو منتخب کرتے ہیں ← بادشاہ یا ملکہ دارالعوام کی سب سے بڑی جماعت کے رہنما کو وزیرِ اعظم بننے کی دعوت دیتے ہیں ← وزیرِ اعظم کابینہ مقرر کرتا ہے۔ آئیے وزیرِ اعظم سے شروع کرتے ہیں۔
وزیرِ اعظم اور کابینہ
وزیرِ اعظم (Prime Minister، یا PM) برسرِ اقتدار جماعت کا رہنما ہوتا ہے۔ وزیرِ اعظم کابینہ کے ارکان چنتا ہے اور بہت سے اہم سرکاری عہدوں پر تقرری میں آخری فیصلہ اسی کا ہوتا ہے۔
وزیرِ اعظم 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ (10 Downing Street) میں رہتا اور کام کرتا ہے، جو وسطی لندن میں پارلیمنٹ کی عمارتوں سے تھوڑے ہی فاصلے پر ہے۔ وزیرِ اعظم کو لندن سے باہر ایک دیہی رہائش گاہ بھی ملتی ہے جسے چیکرز (Chequers) کہتے ہیں۔
10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کا سامنے کا دروازہ۔ اس پر باہر کی طرف چابی کا کوئی سوراخ نہیں، کیونکہ اندر ہر وقت کوئی نہ کوئی دروازہ کھولنے کے لیے موجود ہوتا ہے۔ یہاں لیری (Larry) نام کا ایک بلا بھی رہتا ہے، جس کے پاس 2011 سے "Chief Mouser to the Cabinet Office" (کابینہ آفس کا چیف چوہے پکڑنے والا) کا عہدہ ہے، اور وہ کئی وزرائے اعظم سے زیادہ عرصہ وہاں ٹک چکا ہے۔
UK Government، Open Government Licence v3.0، بذریعہ Wikimedia Commonsچیکرز، وزیرِ اعظم کی دیہی رہائش گاہ۔ یہ لارڈ لی آف فیرہم (Lord Lee of Fareham) نے قوم کو تحفے میں دیا تھا، اور وزرائے اعظم 1921 سے اسے استعمال کر رہے ہیں۔
تصویر: Cnbrb، CC0، بذریعہ Wikimedia Commons
ضروری نہیں کہ وزیرِ اعظم اگلے انتخابات تک اپنے عہدے پر رہے۔ حکمران جماعت کے ارکانِ پارلیمنٹ اپنا رہنما بدلنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں، یا وزیرِ اعظم خود عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ اور اگر حکمران جماعت عام انتخابات میں ہار جائے تو وزیرِ اعظم عموماً استعفیٰ دے دیتا ہے۔
کابینہ: تقریباً 20 سینئر وزرا
وزیرِ اعظم تقریباً 20 سینئر ارکانِ پارلیمنٹ کو وزیر بنا کر سرکاری محکموں کی ذمہ داری دیتا ہے۔ ان میں شامل ہیں:
وزیرِ خزانہ، جسے چانسلر آف دی ایکسچیکر (Chancellor of the Exchequer) کہتے ہیں، جو معیشت کا ذمہ دار ہے
وزیرِ داخلہ، جسے ہوم سیکرٹری (Home Secretary) کہتے ہیں، جو جرائم، پولیس اور امیگریشن کا ذمہ دار ہے
وزیرِ خارجہ، جسے فارن سیکرٹری (Foreign Secretary) کہتے ہیں، جو دوسرے ملکوں کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات دیکھتا ہے
دوسرے وزرا، جنہیں سیکرٹری آف اسٹیٹ (Secretaries of State) کہا جاتا ہے، اور جو تعلیم، صحت اور دفاع جیسے شعبے سنبھالتے ہیں (برطانیہ میں ان عہدوں میں "سیکرٹری" سے مراد سرکاری افسر نہیں بلکہ وزیر ہے)
وزرا کے اس گروہ کو کابینہ (cabinet) کہتے ہیں۔ یہ عموماً ہر ہفتے اجلاس کرتی ہے اور حکومتی پالیسی کے سب سے اہم فیصلے کرتی ہے، اور پارلیمنٹ کو اکثر ان فیصلوں پر بحث کرنی پڑتی ہے یا ووٹ دینا پڑتا ہے۔
کابینہ کے وزرا سے نیچے ہر محکمے میں جونیئر وزرا ہوتے ہیں، جن کے عہدے وزیرِ مملکت (Ministers of State) یا پارلیمانی انڈر سیکرٹری آف اسٹیٹ (Parliamentary Under-Secretaries of State) جیسے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک محکمے کے کام کا ایک حصہ سنبھالتا ہے۔
وزیرِ خزانہ کے عہدے کے نام کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے۔ لفظ "Exchequer" قرونِ وسطیٰ کے ایک شاہی مالیاتی دفتر سے آیا ہے۔ اس کے اہلکار ایک ایسی میز پر حساب کتاب کرتے اور ٹیکس جمع کرتے تھے جس پر خانے دار کپڑا (شطرنج کی بساط جیسا) بچھا ہوتا تھا، اور وہ اس پر گوٹیاں ادھر ادھر کرتے تھے، جیسے کسی بورڈ گیم میں مہرے چلائے جاتے ہیں۔ اسی کپڑے کی وجہ سے Exchequer کو یہ نام ملا۔
کوئز
What is the name of the Prime Minister's country house outside London?
سوال اردو میںلندن سے باہر وزیرِ اعظم کی دیہی رہائش گاہ کا نام کیا ہے؟
جواب چیکرز (Chequers) ہے۔ بالمورل (Balmoral)، سینڈرنگھم (Sandringham) اور ونڈسر کاسل (Windsor Castle) سب شاہی رہائش گاہیں ہیں، وزیرِ اعظم کی نہیں۔
کوئز
Which member of the cabinet is in charge of the economy?
سوال اردو میںکابینہ کا کون سا رکن معیشت کا ذمہ دار ہے؟
چانسلر آف دی ایکسچیکر (Chancellor of the Exchequer)، یعنی وزیرِ خزانہ، معیشت کا ذمہ دار ہے۔ ہوم سیکرٹری (Home Secretary) جرائم، پولیس اور امیگریشن دیکھتا ہے، اور فارن سیکرٹری (Foreign Secretary) دوسرے ملکوں سے تعلقات۔ اسپیکر (Speaker) تو کابینہ میں ہوتا ہی نہیں: اسپیکر دارالعوام میں بحث کی صدارت کرتا ہے۔
حزبِ اختلاف، سیاسی جماعتیں اور پریشر گروپ
حزبِ اختلاف اور شیڈو کابینہ
دارالعوام میں جس جماعت کے ارکان کی تعداد دوسرے نمبر پر ہو، اسے حزبِ اختلاف (the opposition) کہا جاتا ہے۔ اگر یہ جماعت اگلے عام انتخابات جیت جائے تو عام طور پر اس کا رہنما وزیرِ اعظم بنتا ہے۔
حزبِ اختلاف کا کام حکومت کو چوکنا رکھنا ہے۔ اس کا رہنما، یعنی قائدِ حزبِ اختلاف، ہر اس کام پر تنقید کی قیادت کرتا ہے جسے ان کی جماعت کے خیال میں حکومت غلط یا برے طریقے سے کر رہی ہو۔ اس کا ایک اہم موقع وزیرِ اعظم سے سوالات (Prime Minister's Questions) کا وقفہ ہے، جو پارلیمنٹ کے اجلاس کے دنوں میں ہفتے میں ایک بار ہوتا ہے۔ قائدِ حزبِ اختلاف اپنی جماعت کے سینئر ارکانِ پارلیمنٹ کو "شیڈو وزرا" (shadow ministers) کی ذمہ داری بھی دیتا ہے۔ یہ سب مل کر شیڈو کابینہ (shadow cabinet) بناتے ہیں، جو حکومت کو چیلنج کرتی ہے اور متبادل پالیسیاں پیش کرتی ہے۔
حزبِ اختلاف کا سرکاری نام Her Majesty's Most Loyal Opposition (ملکہ معظمہ کی سب سے وفادار حزبِ اختلاف) ہے، کیونکہ حکومت کی مخالفت کرنا ملک سے بے وفائی کے برابر نہیں۔ وزیرِ اعظم سے سوالات کا وقفہ اب بدھ کو دوپہر 12 بجے ہوتا ہے۔ پہلے یہ ہفتے میں دو چھوٹی نشستیں ہوتی تھیں؛ ٹونی بلیئر (Tony Blair) نے 1997 میں وزیرِ اعظم بننے کے بعد انہیں بدھ کی ایک لمبی نشست میں بدل دیا، اور 2003 میں دارالعوام کے اوقات بدلنے پر یہ دوپہر 12 بجے منتقل ہو گئی۔
جماعتی نظام
آپ 18 سال کی عمر سے رکنِ پارلیمنٹ کا انتخاب لڑ سکتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر امیدوار شاذ و نادر ہی جیتتے ہیں جب تک کہ کسی بڑی جماعت نے انہیں نامزد نہ کیا ہو۔ بڑی جماعتیں لیبر پارٹی (Labour Party)، کنزرویٹو پارٹی (Conservative Party) اور لبرل ڈیموکریٹس (Liberal Democrats) ہیں، اور ان کے علاوہ وہ جماعتیں جو اسکاٹ لینڈ، ویلز یا شمالی آئرلینڈ کے مفادات کی بات کرتی ہیں۔
کچھ ارکانِ پارلیمنٹ آزاد (independents) ہوتے ہیں: وہ کسی بڑی جماعت کا حصہ نہیں ہوتے، اور عموماً کسی ایک مسئلے پر مہم چلاتے ہیں جو ان کے مقامی علاقے کے لیے اہم ہو۔
بڑی جماعتیں ہمیشہ چاہتی ہیں کہ عام لوگ ان کے کام میں شامل ہوں: بحث مباحثے میں حصہ لیں، چندہ دیں، اور قومی اور مقامی انتخابی مہموں میں مدد کریں۔ زیادہ تر حلقوں میں ہر بڑی جماعت کی ایک مقامی شاخ ہوتی ہے، اور ہر جماعت اپنی پالیسیاں طے کرنے کے لیے ہر سال ایک کانفرنس کرتی ہے۔
پریشر گروپ اور لابی گروپ
پریشر اور لابی گروپ (Pressure and lobby groups) ایسی تنظیمیں ہیں جو حکومت کے کاموں کو بدلنے کی کوشش کرتی ہیں، اور برطانوی سیاست میں ان کی بڑی اہمیت ہے۔ کچھ گروپ معاشرے کے کسی خاص حصے کی نمائندگی کرتے ہیں: مثلاً CBI (کنفیڈریشن آف برٹش انڈسٹری، Confederation of British Industry) برطانوی کاروبار کا نقطۂ نظر پیش کرتی ہے۔ دوسرے کسی ایک مقصد کے لیے مہم چلاتے ہیں، جیسے ماحول کے لیے گرین پیس (Greenpeace)، یا انسانی حقوق کے لیے لبرٹی (Liberty)۔
کوئز
How often does Prime Minister's Questions take place while Parliament is sitting?
سوال اردو میںجب پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہو تو وزیرِ اعظم سے سوالات (Prime Minister's Questions) کتنی بار ہوتے ہیں؟ A: ہر ہفتے B: ہر روز C: مہینے میں ایک بار D: سال میں ایک بار
جب پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہو تو وزیرِ اعظم سے سوالات (Prime Minister's Questions) ہر ہفتے ہوتے ہیں۔ یہ قائدِ حزبِ اختلاف کے لیے حکومت کی ناکامیوں اور کمزوریوں پر سوال اٹھانے کا ایک اہم موقع ہے۔ یہ روزانہ نہیں ہوتے، اور مہینے یا سال میں ایک بار سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔
کوئز
Which of the following statements is correct?
سوال اردو میںان میں سے کون سا بیان درست ہے؟ A: شیڈو کابینہ کے ارکان وزیرِ اعظم چنتا ہے۔ B: قائدِ حزبِ اختلاف اپنی جماعت کے سینئر ارکانِ پارلیمنٹ کو شیڈو وزرا کے طور پر چنتا ہے۔
قائدِ حزبِ اختلاف شیڈو کابینہ اپنی جماعت میں سے چنتا ہے۔ وزیرِ اعظم اصل کابینہ مقرر کرتا ہے۔
سول سروس: وہ ٹیم جو حکومت بدلنے پر بھی رہتی ہے
وزرائے اعظم اور وزرا انتخابات کے ساتھ آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن سرکاری محکموں میں کام کرنے والے زیادہ تر لوگ اپنی جگہ رہتے ہیں۔ یہ سول سرونٹ (civil servants) ہیں، یعنی حکومت کے مستقل ملازمین، جو:
وزرا کو پالیسیاں بنانے اور ان پر عمل درآمد میں مدد دیتے ہیں، اور عوامی خدمات بھی چلاتے ہیں؛
وزرا کو جواب دہ ہوتے ہیں؛
اپنی قابلیت کی بنیاد پر بھرتی ہوتے ہیں، سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نہیں، اور انہیں سیاسی طور پر غیر جانبدار رہنا ہوتا ہے: کوئی جماعت انہیں مقرر نہیں کرتی؛
کسی بھی دوسری نوکری کی طرح درخواست دے کر اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔
سول سرونٹس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے کام سے لگن رکھیں اور چار بنیادی اقدار پر عمل کریں: دیانت داری (integrity)، ایمانداری (honesty)، معروضیت (objectivity، یعنی حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرنا) اور غیر جانبداری (impartiality، یعنی کسی کا ساتھ نہ دینا، جس میں سیاسی طور پر غیر جانبدار رہنا بھی شامل ہے)۔
وزرا اور سول سرونٹس کے اس تعلق کو 1980 کی دہائی کے برطانوی سٹ کام Yes Minister نے بڑی خوبی سے دکھایا، جس میں ایک نئے مقرر ہونے والے وزیر کو اس کا تجربہ کار سینئر سول سرونٹ ہمیشہ بڑی شائستگی سے "صحیح" سمت میں موڑتا رہتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت کی وزیرِ اعظم مارگریٹ تھیچر (Margaret Thatcher) نے اسے اپنا پسندیدہ پروگرام قرار دیا تھا۔
کوئز
Which TWO of these statements are correct?
سوال اردو میںان میں سے کون سے دو بیانات درست ہیں؟ A: سول سرونٹس میرٹ پر چنے جاتے ہیں اور انہیں سیاسی طور پر غیر جانبدار رہنا ہوتا ہے۔ B: سول سرونٹس کو وہ جماعت مقرر کرتی ہے جو عام انتخابات جیتتی ہے۔ C: گرین پیس ایک ایسے پریشر گروپ کی مثال ہے جو ماحول کے لیے مہم چلاتا ہے۔ D: CBI ایک پریشر گروپ ہے جو بنیادی طور پر انسانی حقوق کے لیے مہم چلاتا ہے۔
سول سرونٹس کو کوئی جماعت مقرر نہیں کرتی، اس لیے حکومت بدلنے پر وہ نہیں بدلتے۔ CBI کاروبار کی نمائندگی کرتی ہے؛ انسانی حقوق کی مثال لبرٹی (Liberty) ہے۔
مقامی حکومت: کاؤنٹی کونسلوں سے لندن کے میئر تک
مقامی علاقے، چاہے قصبے ہوں، شہر ہوں یا دیہی علاقے، کونسلیں (council) چلاتی ہیں جنہیں مقامی لوگ منتخب کرتے ہیں۔ انہیں عموماً لوکل اتھارٹیز (local authorities)، یعنی مقامی انتظامی ادارے، کہا جاتا ہے۔ کچھ جگہوں پر دو سطحیں ہوتی ہیں، ڈسٹرکٹ کونسل (district council) اور کاؤنٹی کونسل (county council)، اور ہر ایک مختلف کام کرتی ہے۔ زیادہ تر بڑے قصبوں اور شہروں میں صرف ایک لوکل اتھارٹی ہوتی ہے۔
کونسلیں بہت سی مقامی خدمات چلاتی ہیں۔ ان کا خرچ کچھ مرکزی حکومت کی گرانٹس سے اور کچھ مقامی ٹیکسوں سے پورا ہوتا ہے۔
بہت سی کونسلیں ایک میئر (mayor) چنتی ہیں جس کا کردار زیادہ تر رسمی ہوتا ہے۔ لیکن کچھ قصبوں میں ووٹر ایک ایسا میئر منتخب کرتے ہیں جس کے پاس اصل اختیار ہوتا ہے اور جو کونسل کے کام کی قیادت کرتا ہے۔
لندن33 لوکل اتھارٹیز میں تقسیم ہے۔ پورے دارالحکومت کی پالیسی میں ہم آہنگی گریٹر لندن اتھارٹی (Greater London Authority) اور لندن کے میئر (Mayor of London) کے ذریعے ہوتی ہے۔ زیادہ تر کونسلیں اپنے کونسلروں کے انتخابات ہر سال مئی میں کراتی ہیں، اور بہت سے امیدوار سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
لوگ اکثر لندن کے میئر کو ایک کہیں پرانے عہدے، لارڈ میئر آف دی سٹی آف لندن (Lord Mayor of the City of London)، سے ملا دیتے ہیں۔ لندن کے میئر کا عہدہ نسبتاً نیا ہے؛ یہ 2000 میں بنا اور پورے شہر کے ووٹر اسے منتخب کرتے ہیں۔ لارڈ میئر ہر سال چنا جاتا ہے، صرف "سٹی" کا ذمہ دار ہوتا ہے، یعنی شہر کے بیچ میں ایک مربع میل کا مالیاتی علاقہ، اور یہ عہدہ زیادہ تر رسمی ہے۔
کوئز
How many local authorities are there in London?
سوال اردو میںلندن میں کتنی لوکل اتھارٹیز (مقامی انتظامی ادارے) ہیں؟
33، جن کے درمیان ہم آہنگی گریٹر لندن اتھارٹی اور لندن کا میئر پیدا کرتے ہیں۔
باب کا خلاصہ
پارلیمانی جمہوریت (Parliamentary democracy)
برطانیہ پر حکومت کا طریقہ؛ بادشاہ یا ملکہ سربراہِ مملکت ہیں
19ویں صدی کا آغاز
صرف 21 سال سے زیادہ عمر کے جائیداد والے مرد ووٹ دے سکتے تھے
چارٹسٹ (Chartists)
1830 اور 1840 کی دہائیاں؛ چھ مطالبات: ہر مرد کے لیے ووٹ، ہر سال انتخابات، برابر علاقے، خفیہ رائے شماری، کوئی بھی مرد امیدوار بن سکے، ارکانِ پارلیمنٹ کے لیے تنخواہ؛ زیادہ تر 1918 تک پورے ہو گئے
1918، 1928، 1969
30 سال سے زیادہ عمر کی عورتیں ← 21 سال سے زیادہ عمر کے مرد اور عورتیں ← 18 سال
غیر تحریری آئین
کوئی ایک دستاویز نہیں؛ برطانیہ میں کبھی ایسا انقلاب نہیں آیا جس نے اس کا نظام مکمل طور پر بدل دیا ہو (امریکہ اور فرانس کے برعکس)
ادارے
بادشاہت، پارلیمنٹ (دونوں ایوان)، وزیرِ اعظم، کابینہ، عدلیہ، پولیس، سول سروس، مقامی حکومت؛ اور منتقل شدہ اختیارات والی حکومتیں
آئینی بادشاہت
بادشاہ یا ملکہ حکومت نہیں کرتے؛ سب سے بڑی جماعت کے رہنما کو وزیرِ اعظم بننے کی دعوت دیتے ہیں؛ مشورہ، تنبیہ اور حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں
الزبتھ دوم
1952 سے ملکہ، 2012 میں ڈائمنڈ جوبلی؛ پرنس چارلس تخت کے وارث
بادشاہ یا ملکہ کے کردار
تقریر کے ساتھ پارلیمنٹ کا افتتاح، قوانین بادشاہ یا ملکہ کے نام پر، سفیروں کا استقبال، غیر ملکی سربراہانِ مملکت کی میزبانی، سرکاری دورے، استحکام اور تسلسل
حلف یا اقرار
شہریت کی تقریب میں: خدا کی قسم کھا کر (حلف) یا خدا کا ذکر کیے بغیر (اقرار) بادشاہ یا ملکہ سے وفاداری کا وعدہ
وزیرِ اعظم
حکمران جماعت کا رہنما؛ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ؛ دیہی رہائش گاہ چیکرز؛ تقریباً 20 وزرا کو کابینہ میں مقرر کرتا ہے